شاہ زیب قتل: شاہ رخ ریمانڈ پر پولیس تحویل میں

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 17 جنوری 2013 ,‭ 12:17 GMT 17:17 PST

شاہ زیب کو 25 دسمبر کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے نوجوان شاہ زیب کے قتل کیس میں شاہ رخ جتوئی کو سات روزہ ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔

شاہ رخ جتوئی کو سپریم کورٹ کے احکامات پر دبئی سے گرفتار کرکے کراچی لایا گیا تھا۔ انہیں جمعرات کو بکتر بند گاڑی میں عدالت میں پیش کیا گیا۔

جج غلام مصطفیٰ جی میمن نے شاہ رخ جتوئی کو تئیس جنوری تک پولیس کی تحویل میں دینے کے ساتھ دیگر چار ملزمان سراج تالپور، ان کے بھائی سجاد تالپور اور ملازم غلام مصطفیٰ لاشاری کے ریمانڈ میں اضافے کی بھی منظوری دی۔

پولیس نے عدالت میں درخواست پیش کی کہ شاہ رخ جتوئی کے والد سکندر جتوئی کے خلاف الزام ثابت نہیں ہوا۔ اس درخواست پر عدالت نے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا۔

عدالت نے شاہ رخ جتوئی کے طبی معائنے کی بھی ہدایت جاری کی تاکہ ان کی عمر کا تعین کیا جاسکے۔

نوجوان شاہ زیب کو پچیس دسمبر کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔ چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے حکام کو کارروائی کا حکم دیا تھا۔

سندھ پولیس نے قتل کی تفتیش کے لیے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

شاہ زیب کی ہلاکت کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک پر اس قتل کی مذمت کے لیے مہم کا آغاز ہوا۔ اس کے علاوہ کراچی پریس کلب کے باہر بھی احتجاج کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔