شیری رحمان کے خلاف توہینِ مذہب کی درخواست

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 17 جنوری 2013 ,‭ 08:34 GMT 13:34 PST

شیری رحمان اس وقت امریکہ میں پاکستان کی سفیر ہیں

پاکستان کی سپریم کورٹ نے امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان کے خلاف مبینہ طور مذہبی معاملے میں توہین آمیز رویہ اختیار کرنے پر کارروائی کی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔

یہ درخواست ملتان سے تعلق رکھنے والے تاجر فہیم انورگل نے دائر کی ہے جو دو ہزار گیارہ کے آغاز سے اس معاملے کی پیروی کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس سے قبل ملتان کی سیشن کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ میں بھی یہ درخواست دائر کی تھی جسے مسترد کر دیا گیا تھا۔

تاہم جمعرات کو سپریم کورٹ نے ان کی اپیل منظور کرتے ہوئے ملتان کے سٹی پولیس افسر کو قانون کے مطابق کارروائی کا حکم دیا ہے۔

فہیم اخترگل نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ تیس نومبر سنہ دو ہزار دس کو پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام ’دنیا مرے آگے‘میں شیری رحمان نے توہین رسالت کی سزا پر گفتگو کی اور ایسے الفاظ استعمال کیے جو توہین پر مبنی ہیں۔

خیال رہے کہ امریکہ میں بطور سفیر تقرر سے قبل بطور رکنِ قومی اسمبلی شیری رحمان نے ایوان میں نجی کارروائی کے دن ذاتی حیثیت میں ایک ترمیمی بل پیش کیا تھا جس میں ناموسِ رسالت کے قانون کے غلط استعمال کو رکوانے کے لیے تجاویز پیش کی گئی تھیں۔

بعد میں اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ اس بل کا پارٹی پالیسی سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کے کہنے پر شیری رحمان بل واپس لینے پر تیار ہوگئی تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔