بلوچستان: پرنسپل اور بی ایل اے کمانڈر ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 19 جنوری 2013 ,‭ 21:22 GMT 02:22 PST
بلوچستان ایف سی

فرنٹیئر کور بلوچستان نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے ایک کمانڈر اور ان کے ایک ساتھی کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع خاران میں فائرنگ سے نجی سکول کے پرنسپل اور ان کا بیٹا ہلاک ہوگئے ۔ جب کہ فرنٹیئر کور بلوچستان نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے ایک کمانڈر اور ان کے ایک ساتھی کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

پرنسپل اور ان کے بیٹے کی ہلاکت کا یہ واقعہ جمعہ کو کوئٹہ سے تقریبًا چار سو کلو میٹر دور جنوب مغرب میں خاران شہر میں پیش آیا۔

خاران کی ضلعی انتظامیہ کے ایک اعلٰی افسر نے بی بی سی کو بتایا کہ شہر میں نجی سکول کے پرنسپل اکرام مینگل اپنے بیٹے کے ہمراہ اپنے دفتر میں بیٹھے تھے کہ وہاں نقاب پوش افراد آئے اور ان پر فائر کھول دیا جس سے دونوں موقع پر ہی ہلاک ہوگئے۔

فائرنگ کے بعد حملہ آور موٹر سائیکل پر فرار ہوگئے۔

خاران میں گزشتہ سال اس نوعیت کے ایک اور واقعے میں ایک اور نجی سکول کے پرنسپل کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ایک اور واقعے میں بلوچستان کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی کے قریب بارودی سرنگ کے دھماکے میں ایک شخص زخمی ہوگیا۔

پولیس کے مطابق نامعلوم افراد کی جانب سے تخریب کاری کی غرض سے زیر زمین بارودی سرنگ پر ٹریکٹر چڑھنے سے زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں ایک شخص شدید زخمی ہوگیا، زخمی کو مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ کوئٹہ کے قریب مستونگ شہر میں فرنٹیئر کور بلوچستان نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے ایک کمانڈر اور ان کے ایک ساتھی کو ہلاک کرنے کا دعوٰی کیا ہے۔

یہ کارروائی مستونگ شہر سے ملحقہ علاقے کلی پیرکانو میں کی گئی۔

گورنر راج کے نفاذ کے بعد یہ مستونگ کے علاقے میں اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی تھی۔

ایف سی کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق اس آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم بی ایل اے کا کمانڈر رشید شاہوانی اور اس کا ایک ساتھی شاہ جہان مارے گئے ۔

ایف سی کے پریس ریلیز میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ دونوں افراد اپریل2010 میں کیڈٹ کالج مستونگ کے پرنسپل اور 2 طلبا، ایس ایچ او پولیس سٹیشن مستونگ انسپکٹر مراد، سیکشن آفیسر سپورٹس محمد ادریس، ایف سی کے نائیک زاہد، آئی بی انسپکٹر بابر، لیویز کانسٹیبل اکرام رند، سیکورٹی گارڈ واپڈا شاہ جہان اور 18 ایف سی اہلکاروں کی ہلاکتوں سمیت دیگر کارروائیوں میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔

پریس ریلیز میں یہ بھی دعوٰی کیا گیا ہے کہ ان افراد کے قبضے سے بھاری تعداد میں ہتھیار ہینڈ گرینڈ، لٹریچر اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔

کوئٹہ کے علاقے سریاب میں بھی پولیس اور فرنٹیئر کور کے اہلکاروں نے سرچ آپریشن کیا جس کے دوران 10مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا جنھیں پولیس کے حوالے کیا گیا ہے۔

کوئٹہ ہی کے نواحی علاقے پشتون آباد میں کارروائی کرتے ہوئے ایف سی نے بارودی مواد بر آمد کیا ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔