’کامران فیصل رینٹل پاور کیس میں دباؤ میں تھے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 18 جنوری 2013 ,‭ 12:07 GMT 17:07 PST

’کامران فیصل عمومی طور پر نیب کے ’کلچر‘ سے مطمئن تھے‘

’پینتیس ہزار روپے ماہانہ میں افسروں اور ان کے مہمانوں کی تواضع نہیں کر سکتا۔‘ کامران فیصل نے دو برس قبل ایف آئی اے کی ملازمت سے استعفے کی یہ وجہ اپنے ایک قریبی دوست کو بتائی تھی۔

جمعے کے روز اسلام آباد میں فیڈرل لاجز کے کمرے میں مردہ پائے جانے والے افسر کامران فیصل نیب سے پہلے ایف آئی اے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات تھے۔

پاکستان کے اس اعلیٰ ترین وفاقی تحقیقاتی ادارے سے انہوں نے استعفیٰ دیا تھا۔ اُس شام وہ حسب معمول دوستوں کی محفل میں پہنچے تو ان پر بہت تنقید ہوئی کہ اتنی اچھی نوکری کیوں چھوڑ دی؟

کامران کے دو دوستوں، جو سرکاری افسران ہونے کے باعث اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے، کا کہنا ہے کہ انہوں نے بہت مطمئن لہجے میں اپنے دوستوں سے کہا۔ ’اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے طور پر میری تنخواہ پینتیس ہزار ہے۔ افسر کہتے ہیں کہ ہمارے فلاں مہمان کی تواضع کرو۔ فلاں کے گھر یہ تحفہ بھجوا دو۔ فلاں رشتہ داروں کو ہوائی جہاز کا ٹکٹ لے دو۔ میں رشوت نہیں لیتا تھا اس لیے یہ سب میرے لیے ممکن نہیں تھا۔‘

کامران فیصل نے ایف آئی اے سے مستعفی ہونے کے بعد قومی احتساب بیورو میں ملازمت اختیار کر لی۔

ان کے ایک قریبی دوست کا کہنا ہے کہ عمومی طور پر کامران نیب کے ’کلچر‘ سے مطمئن تھے۔ لیکن پھر انہیں کرائے کے بجلی گھروں (رینٹل پاور) کے معاہدوں میں ہونے والی مبینہ بد عنوانی کی تفتیش پر لگا دیا گیا۔

کامران فیصل کے دوستوں کا کہنا ہے کہ وہ بہت جلد معاملے کی تہہ تک پہنچ گئے۔ دن رات اس مقدمے کی تفتیش کے سلسلے میں مصروفیت کے باعث دوستوں سے ان کی ملاقاتیں بھی اس دوران کم ہونے لگیں۔

وہ غیر ضروری طور پر سرکاری باتیں دوستوں کی محفل میں نہیں کرتے تھے۔ لیکن ایک شام انہوں نے غصے کے عالم میں کہا ’میرے بھائی اس کیس میں بدعنوانی کی رقم اتنی بڑی ہے کہ آپ اسے زبانی بیان نہیں کر سکتے۔ آپ کو یہ رقم بیان کرنے کے لیے تقریباً پوری گنتی پڑھنی پڑے گی۔‘

ان کے دوستوں کا البتہ کہنا ہے کہ وہ اس مقدمے کے ملزموں میں شامل سرکاری شخصیات سے زیادہ ان ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مورد الزام ٹھہراتے تھے جو، کامران فیصل کے بقول، اس ملک کے دشمن ثابت ہوئے تھے۔

کامران فیصل پچھلے چھ سات ماہ سے خاصے پریشان تھے۔ ان کے ایک دوست کے مطابق رینٹل پاور کیس میں انہیں دباؤ کا سامنا تھا۔ اس دباؤ کی نوعیت کیا تھی، اس بارے میں انہوں نے اپنے قریبی دوستوں کو بھی زیادہ تفصیل نہیں بتائی۔

تینتیس سالہ کامران فیصل اپنے والد کی خواہش پر چھ برس قبل اپنی پیدائش کے شہر کوئٹہ کو چھوڑ کر اسلام آباد منتقل ہوئے تھے۔ کوئٹہ میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث ان کے والد نے چار بہنوں کے اکلوتے بھائی کو اسلام آباد میں سکونت اختیار کرنے پر مجبور کیا تھا۔

کامران کے والد چوہدری حمید کا تعلق پنجاب کے شہر میاں چنوں سے ہے لیکن وہ چالیس برس سے کوئٹہ میں مقیم ہیں۔

کامران فیصل کی دو بیٹیاں ہیں۔ چھوٹی بیٹی نے چند روز قبل سکول جانا شروع کیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔