ایم کیو ایم اور اے این پی کے نئے تعلقات

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 18 جنوری 2013 ,‭ 11:34 GMT 16:34 PST

متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی میں نئے تعلقات کا آغاز ہوا ہے اور دونوں جماعتوں کو یہ موقع کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے فراہم کیا ہے۔

دونوں جماعتیں بارہ جنوری 2007 سے ایک دوسرے کی شدید مخالف نظر آتی رہیں۔ اس روز سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر شہر میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے۔ ان ہنگاموں میں پچاس کے قریب لوگ ہلاک ہوئے جن میں اکثریت پشتون کی تھی۔

اس کے بعد کراچی میں رہنے والے پشتون آبادی میں عوامی نیشنل پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، عام انتخابات میں پشتون قوم پرستی کے رجحان اور جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے باعث عوامی نیشنل پارٹی کراچی میں اپنا سیاسی حصہ لینے میں کامیاب ہوگئی اور اسے دو صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔

پچھلے چند سالوں سے جاری کشیدگی نے دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کردیا تھا۔ اس دوران ہونے والی ہلاکتوں پر دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر انگلیاں بھی اٹھاتی رہیں ہیں۔

ایم کیو ایم کا موقف رہا ہے کہ کراچی میں طالبانائزیشن میں اضافہ ہو رہا ہے مگر عوامی نیشنل پارٹی اس موقف کی مخالفت کرتی رہی۔ اے این پی کے بعض رہنماوں کا خیال تھا کہ اس الزام سے پشتون آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے بلدیہ اور اتحاد ٹاؤن کے علاوہ سہراب گوٹھ میں ہلاک ہونے والے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور کارکن کالعدم تحریک طالبان کا نشانہ بنے۔ ان علاقوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے کچھ دفاتر بھی بند ہوئے اور پارٹی کے سرخ جھنڈے بھی نظر نہیں آتے ہیں۔

حالیہ دنوں کراچی میں پولیو مہم کے دوران لانڈھی میں جس علاقے میں دو خواتین رضاکاروں کو نشانہ بنایا گیا وہ علاقہ بھی اے این پی کے رکن اسمبلی امان اللہ محسود کا تھا۔ تفتیشی اداروں کا خیال ہے کہ اس حملے میں بھی تحریک طالبان کا کوئی گروہ ملوث ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا میں کھل کے طالبانائزیشن کی مخالفت اور مزاحمت کرتی رہی ہے مگر کراچی میں اس نے احتیاط برتی ہے۔

گزشتہ سال 23 دسمبر کو عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما بشیر بلور کی ایک خودکش حملے میں ہلاکت پر متحدہ قومی موومنٹ نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا جس نے اخلاقی طور پر دونوں جماعتوں کو تھوڑا قریب کردیا تھا۔ اس سے پہلے تحریک طالبان کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ وہ متحدہ قومی موومنٹ کو ٹارگٹ بنائیں گے۔

رکن اسمبلی منظر امام کے قتل کے فوری بعد عوامی نیشنل پارٹی کی مقامی اور مرکزی قیادت سرگرم ہوگئی، تنظیم کے سربراہ اسفندر یار ولی نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے افسوس کا اظہار کیا۔ منظر امام کے قتل کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کی ہے۔

اے این پی کی قیادت کے متحرک ہونے کی شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ 2010 میں متحدہ کے رکن اسمبلی رضا حیدر کے قتل کے بعد ہنگامہ آرائی کے دوران تین روز میں سو سے زائد لوگ ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر پشتون تھے۔

رکن اسمبلی منظر امام کے قتل کے فوری بعد عوامی نیشنل پارٹی کی مقامی اور مرکزی قیادت سرگرم ہوگئی، تنظیم کے سربراہ اسفندر یار ولی نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ٹیلیفون پر رابطہ کرکے افسوس کا اظہار کیا۔ منظر امام کے قتل کی ذمہ داری بھی طالبان نے قبول کی ہے۔

اے این پی کی قیادت کے متحرک ہونے کی شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ 2010 میں متحدہ کے رکن اسمبلی رضا حیدر کے قتل کے بعد ہنگامہ آرائی کے دوران تین روز میں سو سے زائد لوگ ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تر پشتون تھے۔

اسفند یار ولی نے متحدہ کے لندن سیکریٹریٹ ٹیلیفون کرکے الطاف حسین سے بھی رابطہ کیا اور انہیں باور کرایا کہ دونوں ہی جماعتیں دہشت گردی کا شکار ہیں۔ ان کا نشانہ غالباً تحریک طالبان کی طرف تھا۔

اخباری بیان کے مطابق الطاف حسین نے بھی انہیں بتایا کہ وہ پشتون سے حتمی اور دیرپا دوستی چاہتے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری کے بیان کو بھی اس روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے اتحادیوں کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے گی۔

طالبان کے بڑھتے اور جمتے ہوئے قدموں نے عوامی نیشنل پارٹی کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کی فہرست کا از سر نو جائزہ لے اور اس میں کمی کرے۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کی سیاسی سیز فائر آنے والے انتخابات کی طرف پیش قدمی نظر آتی ہے، جس کے تحت کراچی میں جس جماعت کی جو پوزیشن ہے، اس کو نہ چھیڑا جائے، کیونکہ اسی میں سب کا فائدہ ہے۔

تجزیہ نگار پروفیسر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ کراچی میں سیاسی تبدیلی کی ایک واضح جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ رکن اسمبلی منظر امام کے قتل کے بعد اس قدر تشدد نہیں ہوا، جس طرح دو سال قبل ایک اور رکن اسمبلی رضا حیدر کے قتل کے بعد ہوا تھا، اس وقت پختونخوا سے آنے والی آبادی براہ راست تشدد کا نشانہ بنی تھی۔

پروفیسر توصیف کے مطابق اے این پی نے بھی کھل کر منظر امام کے قتل کی مذمت کی اور ایک تبدیلی یہ بھی نظر آئی کہ تحریک طالبان نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی، جس سے طالبان کا فیکٹر بہت واضح ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کہنا کافی مشکل ہے کہ یہ تبدیلی آگے جاکر کسی سیاسی مفاہمت میں تبدیل ہوگی کیونکہ بلدیاتی نظام پر اے این پی سندھ کے قومپرستوں کے ساتھ کھڑی ہوئی نظر آتی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری بشیر جان تسلیم کرتے ہیں کہ طالبان کی کارروائیاں دونوں جماعتوں کو قریب لے کر آئی ہے۔ ان کے دونوں جماعتوں کے اختلافات ہوسکتے ہیں مگر یہ اختلافات مارنے اور مرنے والے نہیں ہیں۔

’ہمارے لوکل باڈیز آرڈیننس پر اختلافات ہوں گے مگر انہیں بیٹھ کر حل کریں گے لیکن غیر جمہوری قوتوں کو یا انتہا پسندوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ انہیں ماریں یا ہمیں ماریں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔