ایم کیو ایم اور اے این پی کی قربت کی وجہ طالبان؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 18 جنوری 2013 ,‭ 09:39 GMT 14:39 PST

عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے اس سیاسی سیز فائر کو آنے والے انتخابات کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ اور عوامی نیشنل پارٹی کے درمیان نئے تعلقات کا آغاز ہوا ہے اور دونوں جماعتوں کو یہ موقع بظاہر کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے فراہم کیا ہے۔

یہ دونوں جماعتیں بارہ مئی دو ہزار سات کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کراچی آمد کے موقع پر شہر میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد سے ایک دوسرے کی شدید مخالف نظر آتی رہیں۔

اس دن ہونے والے ہنگاموں میں پچاس کے قریب لوگ ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت پشتونوں کی تھی۔

بارہ مئی کے بعد کراچی میں مقیم پشتون آبادی میں عوامی نیشنل پارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا، عام انتخابات میں پشتون قوم پرستی کے رجحان اور جماعت اسلامی کے بائیکاٹ کے باعث عوامی نیشنل پارٹی کراچی میں اپنا سیاسی حصہ لینے میں کامیاب ہوگئی اور اسے دو صوبائی نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی۔

پچھلے چند سالوں سے جاری کشیدگی نے دونوں جماعتوں کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا تھا اور اس دوران ہونے والی ہلاکتوں پر دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر انگلیاں بھی اٹھاتی رہیں ہیں۔

متحدہ قومی موومنٹ کا موقف رہا ہے کہ کراچی میں طالبانائزیشن میں اضافہ ہو رہا ہے مگر عوامی نیشنل پارٹی اس موقف کی مخالفت کرتی رہی۔ اے این پی کے بعض رہنماؤں کا خیال تھا کہ اس الزام سے پشتون آبادی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تاہم کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ شہر کے بلدیہ اور اتحاد ٹاؤن کے علاوہ سہراب گوٹھ میں ہلاک ہونے والے عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور کارکن کالعدم تحریک طالبان کا ہی نشانہ بنے۔ ان علاقوں میں عوامی نیشنل پارٹی کے کچھ دفاتر بھی بند ہوئے اور پارٹی کے سرخ جھنڈے بھی نظر نہیں آتے ہیں۔

حالیہ دنوں کراچی میں پولیو مہم کے دوران لانڈھی میں جس علاقے میں دو خواتین رضاکاروں کو نشانہ بنایا گیا وہ علاقہ بھی اے این پی کے رکن اسمبلی امان اللہ محسود کا تھا۔ تفتیشی اداروں کا خیال ہے کہ اس حملے میں بھی تحریک طالبان کا ہی کوئی گروہ ملوث ہے۔

"دونوں جماعتوں کے اختلافات ہو سکتے ہیں مگر یہ اختلافات مارنے اور مرنے والے نہیں ہیں۔ ہمارے لوکل باڈیز آرڈیننس پر اختلافات ہوں گے مگر انہیں بیٹھ کر حل کریں گے لیکن غیر جمہوری قوتوں کو یا انتہا پسندوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ انہیں ماریں یا ہمیں ماریں۔"

بشیر جان، صوبائی سیکرٹری جنرل اے این پی

عوامی نیشنل پارٹی نے جو خیبر پختونخوا میں کھل کر طالبانائزیشن کی مخالفت اور مزاحمت کرتی رہی ہے، کراچی میں اس عمل میں احتیاط برتی ہے۔ تاہم اب کراچی میں طالبان کے بڑھتے اور جمتے ہوئے قدموں نے بظاہر عوامی نیشنل پارٹی کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے مخالفین کی فہرست کا از سر نو جائزہ لے اور اس میں کمی کرے

گزشتہ سال 23 دسمبر کو عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما بشیر بلور کی ایک خودکش حملے میں ہلاکت پر متحدہ قومی موومنٹ نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا تھا، جس نے اخلاقی طور پر دونوں جماعتوں کو تھوڑا قریب کر دیا تھا۔

اب تحریکِ طالبان کے ہاتھوں رکن اسمبلی منظر امام کے قتل کے فوری بعد عوامی نیشنل پارٹی کی مقامی اور مرکزی قیادت سرگرم نظر آئی۔ تنظیم کے سربراہ اسفندر یار ولی نے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے افسوس کا اظہار کیا۔

اسفند یار ولی نے متحدہ کے لندن سیکریٹریٹ ٹیلیفون کر کے الطاف حسین سے بھی رابطہ کیا اور انہیں باور کرایا کہ دونوں ہی جماعتیں دہشت گردی کا شکار ہیں۔ اخباری بیان کے مطابق الطاف حسین نے بھی انہیں بتایا کہ وہ پشتونوں سے حتمی اور دیرپا دوستی چاہتے ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری بشیر جان تسلیم کرتے ہیں کہ طالبان کی کارروائیاں انہیں قریب لے آئی ہیں۔

بقول ان کے ’دونوں جماعتوں کے اختلافات ہو سکتے ہیں مگر یہ اختلافات مارنے اور مرنے والے نہیں ہیں۔ ہمارے لوکل باڈیز آرڈیننس پر اختلافات ہوں گے مگر انہیں بیٹھ کر حل کریں گے لیکن غیر جمہوری قوتوں کو یا انتہا پسندوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ انہیں ماریں یا ہمیں ماریں۔‘

تجزیہ نگار پروفیسر توصیف احمد کا کہنا ہے کہ کراچی میں سیاسی تبدیلی کی ایک واضح جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔ رکن اسمبلی منظر امام کے قتل کے بعد اس قدر تشدد نہیں ہوا اور اے این پی نے بھی کھل کر منظر امام کے قتل کی مذمت کی۔

انہوں نے کہا کہ ’ایک تبدیلی یہ بھی نظر آئی کہ تحریک طالبان نے اس قتل کی ذمہ داری قبول کی، جس سے طالبان کا فیکٹر بہت واضح ہوگیا ہے۔ اس سے پہلے ایم کیو ایم بھی اس کی نشاندہی کرتی رہی ہے۔‘

عوامی نیشنل پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے اس سیاسی سیز فائر کو آنے والے انتخابات کے تناظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے اور دونوں جماعتیں کراچی میں جہاں جس جماعت کی جو پوزیشن ہے، اسے نہ چھیڑنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہیں کیونکہ شاید اسی میں سب کا فائدہ ہے۔

تاہم پروفیسر توصیف کے مطابق یہ تبدیلی آگے جا کر کسی سیاسی مفاہمت میں تبدیل ہوگی یہ کہنا کافی مشکل ہے کیونکہ بلدیاتی نظام پر اے این پی سندھ کے قوم پرستوں کے ساتھ کھڑی ہوئی نظر آتی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری بشیر جان تسلیم کرتے ہیں کہ طالبان کی کارروائیاں دونوں جماعتوں کو قریب لے کر آئی ہے۔ ان کے دونوں جماعتوں کے اختلافات ہوسکتے ہیں مگر یہ اختلافات مارنے اور مرنے والے نہیں ہیں۔

’ہمارے لوکل باڈیز آرڈیننس پر اختلافات ہوں گے مگر انہیں بیٹھ کر حل کریں گے لیکن غیر جمہوری قوتوں کو یا انتہا پسندوں کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ انہیں ماریں یا ہمیں ماریں۔‘

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔