رینٹل پاور کیس: تفتیشی افسر مردہ حالت میں پائے گئے، میڈیکل بورڈ تشکیل

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 18 جنوری 2013 ,‭ 10:16 GMT 15:16 PST

رینٹل پاور کیس: تفتیشی افسر کی ہلاکت

پاکستان کے شہر اسلام آباد میں قومی احتساب بیورو کے اہلکار کامران فیصل آج اسلام آباد میں اپنی قیام گاہ پر مردہ پائے گئے۔ کامران کرائے کے بجلی گھروں کے معاملے کی تحقیات پر مامور تھے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والی قومی احتساب بیورو کی ٹیم کے ایک تفتیشی افسر کامران فیصل اسلام آباد میں اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے ہیں۔

تھانہ سیکریٹریٹ کے اہلکاروں نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ ان کی لاش کمرے میں پنکھے سے لٹکی پائی گئی ہے۔

دوسری جانب حکومت نے پوسٹمارٹم کے لیے تین رکنی بورڈ تشکیل دے دیا ہے جس کی سربراہی ڈاکٹر امتیاز حسن کر رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر عامر احمد علی کے مطابق پوسٹمارٹم نہ کرانے کے حوالے سے ان کو کامران فیصل کے والد کی جانب سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔

میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے کامران فیصل نیب میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے اور وہ فیڈرل لاجز میں رہائش پذیر تھے۔

پولیس کے مطابق بظاہر یہ خودکشی کا معاملہ لگتا ہے تاہم موت کی وجہ کے حتمی تعین کے لیے لاش پوسٹ مارٹم کے لیے پمز بھجوا دی گئی ہے۔

"فیڈرل لاج پہنچا تو لاج کے کمرہ نمبر ایک کے باہر پولیس اہلکار چوکس کھڑے تھے، دروازہ بند تھا لیکن کمرے کے دروازے کے ساتھ ہی نصب بڑی کھڑکی کا پٹ کھلا ہوا تھا۔ عمارت کے احاطے میں لوگوں کا مجمع تھا جن میں نیب کے افسران اور لاج کے دوسرے مکین شامل تھے، سب کے چہروں پر افسردگی اور پریشانی عیاں تھی۔ کمرے کے سامنے ہی موجود سبزہ زار پر کچھ ہی دیر میں ٹی وی چینلز کے کیمرہ مینوں نے مورچے سنبھال لیے تھے۔ نیب کے ایک افسر نے ان کے پاس آکر کہا کہ وہ وہاں سے ہٹ جائیں کیونکہ ’یہ موت کا المناک واقعہ ہے، آپ لاش کی فوٹیج بناکر کیا کریں گے‘۔ لیکن بعض صحافیوں نے انہیں شکریے کے ساتھ جواب دیا کہ وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض ادا کررہے ہیں اور کچھ نہیں۔ اس پر نیب کے اہلکار اور صحافیوں کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی۔ بعد میں کمبل میں لپٹی ہوئی لاش باہر لائی گئی اور ایمبولینس کے ذریعے روانہ کردی گئی۔ سب کے ذہنوں میں بہرحال ایک ہی سوال گڑا تھا کہ ایک بال بچوں والا انسان خودکشی کیوں کرے گا؟"

احمد رضا

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

کمرے سے ایک پولیس اہلکار ہاتھوں پر پلاسٹک کے دستانے چڑھائے باہر آئے۔ ان سے بات ہوئی تو انہوں نے صرف اتنا بتایا کہ ’خودکشی لگتی ہے۔ لاش پنکھے کے لٹکی ہوئی تھی۔ باقی کچھ نہیں کہہ سکتا‘۔

بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کامران فیصل کے ایک ساتھی افسر کا کہنا ہے کہ وہ رینٹل پاور کیس کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے جبکہ ان کے ایک پڑوسی نے بھی اس موقف کی تصدیق کی۔

اس پڑوسی نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بی بی سی اردو کے احمد رضا کو بتایا کہ وہ اس کیس سے الگ ہونا چاہتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’کچھ دن پہلے ہی میری ان سے ملاقات ہوئی تھی وہ یہیں واک کررہے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اسی کیس کی وجہ سے بہت پریشان ہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی طریقے سے ان کی اس کیس سے جان چھوٹ جائے۔ نہ تو ان (نیب) کے افسران انہیں اس کیس سے الگ کررہے تھے نہ چیف جسٹس صاحب ان کو ریلیو کررہے تھے ۔۔۔ اب یہ نہیں پتہ کہ انہوں نے اس سلسلے میں کوئی تحریری درخواست کی تھی یا نہیں‘۔

پڑوسی نے کہا کہ ’میں نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ سچ لکھ دو، اگر کوئی مسئلہ بنے گا تو کورٹ آپ کو بحال کرا دے گی۔ باقی انہی کے ادارے میں کام کرنے والے ان کے دوسرے ساتھی بھی یہاں رہتے ہیں، وہ بھی انہیں یہی مشورہ دیتے تھے۔‘

کامران فیصل رینٹل پاور کیس کے ان تفتیشی افسران میں سے تھے جن کی تیار کردہ تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر پندرہ جنوری کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف سمیت سولہ افراد کی گرفتاری کے احکامات دیے تھے۔

اسی رپورٹ کو نیب کے چیئرمین نے سترہ جنوری کو ناقص قرار دے دیا تھا اور کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف اس معاملے میں ریفرنس ٹھوس ثبوت کے بغیر بنائے گئے ہیں۔

اسی معاملے کی تفتیش کے دوران نیب کے حکام نے کامران فیصل کو ایک اور تفتیشی افسر سمیت یہ کہہ کر تفتیش سے الگ بھی کیا تھا کہ سپریم کورٹ ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔

تاہم سپریم کورٹ نے یہ بات نوٹس میں لائے جانے کے بعد انہیں بحال کر دیا تھا اور چیئرمین نیب کو اس معاملے میں توہینِ عدالت کا نوٹس بھی جاری کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔