سیاست کی دلدل میں پھنسی معیشت

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 19 جنوری 2013 ,‭ 20:00 GMT 01:00 PST
کراچی سٹاک ایکسچینج

کراچی سٹاک ایکسچینج کا انڈکس 12 جنوری کو جب سپریم کورٹ نے وزیر اعظم کی گرفتاری کا حکم دیا۔

سیاسی میدان میں صف بندی، محاذ آرائی اور تیزی سے بدلتی صورتحال نے بحران جیسی شکل اختیار کر لی ہے۔ امن و امان کی بدتر حالت عدم استحکام اور بے یقینی کے تاثر کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ عوام ہر وقت کسی نئے سیاسی یا بم دھماکے سے ڈرے سہمے ہیں اور معیشت کو روز ایک زور کا جھٹکا لگ رہا ہے۔

ایسا ہی کچھ پندرہ جنوری کو ہوا۔ کینیڈین نیشنل پاکستانی ڈاکٹر طاہر القادری کے حامیوں کے نرغے میں گھرے اسلام آباد میں سپریم کورٹ نے رینٹل پاور پلانٹس کے مقدمے میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی گرفتاری کا حکم جاری کر دیا اور پہلے سے دباؤ کی شکار سٹاک مارکیٹ دھڑام سے نیچے آگئی۔ کے ایس ای ہنڈرڈ انڈیکس پانچ سو پچیس پوائنٹس کم ہو گیا۔ اوپر سے میڈیا نے مارکیٹ کریش ہو نے کی دُہائی دینا شروع کردی۔

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ جب بھی کوئی منفی سیاسی واقعہ ہوتا ہے ۔ سٹاک مارکیٹ کو یہ جھٹکے سہنا پڑتے ہیں۔ گذشتہ چند برسوں پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کے سال دو ہزار چھ میں سکیوریٹیز اینڈ ایکسچنج کمیشن نے سٹاک مارکیٹ کے معاملات کی تحقیقات شروع کی تو مارکیٹ پانچ سو چھیالیس پوائنٹس گر گئی۔ نومبر دو ہزار سات میں سابق فوجی صدر پرویزمشرف نے ہنگامی حالت نافذ کی تو مارکیٹ کو چھ سو پینتیس پوائنٹس کا جھٹکا لگا۔ اسی سال دسمبر میں بےنظیر بھٹو کے قتل پر انڈیکس چھ سو چھیناوے پوائنٹس کم ہوا۔ سال دو ہزار آٹھ میں مئی کے مہینے میں سٹیٹ بینک نے دو مرتبہ شرح سود میں جلدی جلدی کمی کی اور انڈیکس میں ایک مرتبہ چھ سو پندرہ اور دوسری مرتبہ پانچ سو سڑسٹھ پوائنٹس گراوٹ دیکھی گئی۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کے سال دو ہزار تیرہ کا آغاز ہی مشکلات اور شدید بے یقینی میں ہوا ہے۔ صوبہ بلوچستان میں حکومت کی برطرفی اور گورنر راج کا نفاذ، اسلام آباد کا گھیراؤ، وزیر اعظم کی گرفتاری کا حکم، امن و امان کی بگڑتی صورتحال غرض ہر طرف افراتفری ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کے جیسے جیسے الیکشن قریب آئیں گے بےیقینی اور افراتفری بڑھےگی۔

وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کی گرفتاری تو لگتا ہے فی الحال ٹل گئی ہے مگر سپریم کورٹ اور احتساب بیورو میں ٹھن گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں محاذآرائی میں اضافہ ہوگا۔ تجزیہ کار نعمان خان کہتے ہیں عام انتخابات ہو نے تک بےیقینی سٹاک مارکیٹ اور معیشت پر اثرانداز ہوتی رہے گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پندرہ جنوری کو سٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی قدر میں ایک سو چونتیس ارب روپے کمی واقع ہوئی۔ آئے دن ہونے والے ہنگاموں اور کاروبار کی بندش سے اربوں روپے یومیہ نقصان ہوتا ہے جس میں حکومت کو ٹیکس وصولی کی مد میں ہونے والا نقصان بھی شامل ہے۔ پیداواری نقصان اس کے علاوہ ہے۔ چھوٹے کاروباری اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کو سب سے زیادہ تکلیف اور پریشانی ہوتی ہے۔ اور یہ سلسلہ رکتا نظر نہیں آتا۔

دو ہزار تیرہ کا آغاز ہی مشکلات

"سال دو ہزار تیرہ کا آغاز ہی مشکلات اور شدید بے یقینی میں ہوا ہے۔ صوبہ بلوچستان میں حکومت کی برطرفی اور گورنر راج کا نفاذ، اسلام آباد کا گھیراؤ، وزیر اعظم کی گرفتاری کا حکم، امن و امان کی بگڑتی صورتحال غرض ہر طرف افراتفری ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کے جیسے جیسے الیکشن قریب آئیں گے بےیقینی اور افراتفری بڑھےگی"

تجزیہ کار

سیاست کے اکھاڑے میں جاری دنگل، عدالتی محاذآرائی اور امن و امان کے مسائل کے باوجود ملک کے سیاسی نظام کی بسات لپٹنے کے خدشات اب تک غلط ثابت ہوے ہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے دھرنے کے نتیجے میں ہونے والے معاہدے کے بعد انتخابات کا وقت پر ہونا یقینی نظر آتا ہے اور تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مثبت پیش رفت ہے۔ مگر ابھی بہت سے مرحلے باقی ہیں خاص طور پر سب کے لیے قابل قبول نگراں حکومت کا قیام۔

بروکریج ہاؤس جہانگیر صدیقی کے ریسرچ ڈیپارٹمنٹ کی رپورٹ میں جہاں توازن ادائیگی اور توازن تجارت جیسے میکرو اکنامک انڈیکیٹرز میں بہتری نظر آتی ہے وہیں روپے کی قدر اور دیگر کئی شعبوں میں کمزوری کی نشاندہی کی گئی ہے۔ معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک سے شکر کی برآمد اور سعودی عرب سے ادھار فرٹیلازر کی درآمد کے فیصلے کے بعد حکومت کو فوری کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوگا۔

دوسری طرف آئی ایم ایف سے جاری مذاکرات میں پاکستان کو اپنا مقدمہ لڑنے میں پسپائی کا سامنا ہے۔ آئی ایم ایف مشن کے سربراہ جیفری فرینک نے قرض کی ادائیگی مؤخر کرنے یا قرضہ معاف کرنے کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے عالمی مالیاتی ادارے کے نئے پروگرام کے لیے کڑی شرائط کا واضح اشارہ بھی دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے نئے پروگرام کے لیے پاکستان کو زرِتلافی ختم کرنا ہوگا، بجلی چوری روکنے کے اقدام کرنا ہونگے اور مختلف شعبوں کو دی جانے والی مراعات کا بھی خاتمہ کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی مختلف اقتصادی شعبوں میں اصلاحات کرنا ہونگی۔

ماہرین اس پر متفق ہیں کے سیاسی عدم استحکام کے ساتھ معاشی ترقی کا تصور ممکن نہیں۔ اگر سیاسی بے یقینی برقرار رہتی ہے تو مشکلات بھی بڑھیں گی اور معیشت سیاست کے دلدل میں پھنسی رہےگی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔