ڈیرہ غازی خان: چک ننگر پر موت کا راج

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 18 جنوری 2013 ,‭ 16:18 GMT 21:18 PST

’میرا چوبیس سال کا پوتا فوت ہوگیا۔ بارہ تیرہ دن ہوگئے وہ فیکٹری میں کام کرنے کے لیے لاہور گیا تھا‘

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر ڈیرہ غازی خان سے ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر نانگری قبیلہ ایک ایسے پہاڑ کی چوٹی پر رہائش پذیر ہے جہاں جانے کا واحد زمینی راستہ تقریباً دو کلومیڑ چوڑے پہاڑی نالے سے ہوکر جاتا ہے۔ اس نالے سے پانی تو کم ہی گزرتا ہے اس لیے یہ ہر وقت ریت سے بھرا رہتا ہے اور اسے پیدل پار کرنا بھی مشکل اور عام گاڑیاں لے جانا بھی ناممکن ہے۔

گذشتہ چند ماہ سے نانگری قبیلے کے گاؤں موضع چک ننگر پر موت کا راج ہے اور اب تک یہاں سنتیس نوجوانوں کی میتیں اٹھائی جاچکی ہیں جن میں سے ایک میت بھرائی مائی کے پوتے اصغر علی کی بھی تھی۔

بھرائی مائی کا جھریوں سے بھرا چہرہ ان کی غربت اور دکھ کی دہائی دے رہا ہے جس دن سے اصغر کی موت ہوئی ہے بھرائی مائی کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔

’میرا چوبیس سال کا پوتا فوت ہوگیا۔ بارہ تیرہ دن ہوگئے وہ فیکٹری میں کام کرنے کے لیے لاہور گیا تھا۔ ہمارا کچھ نہیں بچا ہم لٹ گئے برباد ہوگئے۔‘

یہ صرف بھرائی مائی کی کہانی نہیں پوری بستی میں اس وقت سراسمیگی کا عالم ہے۔ بھرائی مائی کے محلے میں جلال کا گھر بھی ہے جس کے تین بیٹے پھیپھڑوں کی بیماری سے موت کے منہ میں جاچکے ہیں جبکہ چوتھا موت کے انتظار میں ہے۔ جلال اپنے بیٹوں کے آٹھ یتیم بچوں کے مستقبل کا سوچ کر نڈھال ہوئے جا رہے ہیں۔

’میرے تین بیٹے فوت ہوچکے ہیں اور چوتھا بیمار ہے۔ ان کے آٹھ بچے ہیں اور میرے پاس کوئی روزی نہیں۔ ہم انتہائی غریب ہیں۔ ہم نے کہاں کہاں بھاگ دوڑ نہیں کی لیکن کسی نے ہماری نہیں سنی۔ حکومت مہربانی کرے اور ہمارے بیماروں کا علاج کروائے اور یتیموں کی روزی کا بندوبست کرے۔‘

"میرے تین بیٹے فوت ہوچکے ہیں اور چوتھا بیمار ہے۔ ان کے آٹھ بچے ہیں اور میرے پاس کوئی روزی نہیں۔ ہم غریب انتہائی غریب ہیں۔ ہم نے کہاں کہاں بھاگ دوڑ نہیں کی لیکن کسی نے ہماری نہیں سنی۔ حکومت مہربانی کرے ہمارے بیماروں کا علاج کروائے اور یتیموں کی روزی کا بندوبست کرے۔"

جلال

آج کی جدید دنیا سے کٹے نانگری قبیلے کے درجنوں افراد دوہزار نو میں اس امید کے ساتھ لاہور اور گجرانوالہ کی سٹون کرشنگ فیکٹریوں میں ملازم ہوئے کہ شاید بہتر روزگار ان کے افلاس کو دور کرسکے۔ لیکن وہ دھوکے میں اپنی زندگی کا سودا کر بیٹھے۔ ان فیکٹریوں کی آلودگی اور یہاں مختلف مصنوعات کی تیاری کے لیے استعمال کیے جانے والے کیمیکلز نے ان کے پھیپھڑوں کو گلا کے رکھ دیا۔

موضع ننگر کے ایک رہائشی فرید خان لغاری کہتے ہیں ’یہ معاملہ گذشتہ کئی برس سے چل رہا ہے۔ ہم نے چودہ ہلاکتوں کے بعد دو ہزار دس میں ڈی سی او ڈیرہ غازی خان کو درخواست دی۔ انھوں نے ٹیم بھیج کر تحقیقات کروائیں لیکن کوئی دادرسی نہیں ہوئی۔ پھر دوہزار گیارہ میں کمشنر کو شکایت کی اس وقت تک جاں بحق ہونے والوں کی تعداد چونتیس ہوچکی تھی۔ لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوئی صرف رپورٹ ہی تیار کی گئی۔ اس کے بعد ہم نے وزیر اعلیٰ اور چیف جسٹس کو بھی درخواستیں دیں لیکن ابھی تک کاغذی کارروائی ہی ہورہی ہے۔ عملی طور پر کچہ نہیں کیا گیا۔‘

اس وقت علاقے میں صورتحال یہ ہے کہ مزید ایک سو پچھہتر افراد میں پھیپھڑوں کی اس جان لیوا بیماری کی تشخیص ہوچکی ہے۔ تقریباً ہر گھر میں متاثرہ شخص موجود ہے۔

نانگری قبیلے کے ایک اور نوجوان ریاض احمد کہتے ہیں ’میں نے وزارت ماحولیات کو ان سٹون کرشنگ فیکٹریوں سے متعلق درخواست دی تھی۔ انھوں نے حکومت کو جو رپورٹ دی اس کے مطابق پاکستان میں فیکٹریوں کے لیے آلودگی کا زیادہ سے زیادہ معیار چار سو مائیکرو ایم ایم ہے لیکن سٹون کرشنگ فیکٹریوں میں سینتیس سو مائیکرو ایم ایم آلودگی پائی گئی۔‘

"میں نے وزارت ماحولیات کو ان سٹون کرشنگ فیکٹریوں سے متعلق درخواست دی تھی۔ انھوں نے حکومت کو جو رپورٹ دی اس کے مطابق پاکستان میں فیکٹریوں کے لیے آلودگی کا زیادہ سے زیادہ معیار چار سو مائیکرو ایم ایم ہے لیکن سٹون کرشنگ فیکٹریوں میں سینتیس سو مائیکرو ایم ایم آلودگی پائی گئی۔"

ریاض احمد

اس بیماری میں مبتلا افراد ڈیرہ غازی خان کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان افراد کو ہسپتال ایک ماہ بعد دوا دینے کے لیے بلایا جاتا ہے لیکن یہ دوا علاج کے لیے نہیں صرف ان کی تکلیف کم کرنے کے لیے ہے۔

ان کے معالج ڈاکٹر جواد ذکاء الدین کا کہنا ہے ’صرف پاکستان نہیں پوری دنیا میں کہیں بھی اس بیماری کا علاج موجود نہیں۔ آلودگی سے ان کے پھیپھڑے ختم ہوچکے ہیں کوئی طریقہ ایسا نہیں کہ یہ دوبارہ ٹھیک ہوسکیں۔‘

مزدوروں کی حفاظت کے تفکرات سے آزاد سٹون کرشنگ فیکٹریاں تو معمول کے مطابق چل رہی ہیں اور غربت ہے کہ مزدورں کی تعداد میں کمی بھی نہیں آنے دیتی۔ ان فیکٹریوں میں زیادہ تعداد پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی ہے۔

بیس سالہ شاہنواز بھی ان میں سے ایک ہیں جو عارفوالہ کے رہائشی ہیں۔ شاہنواز کہتے ہیں ’ کھیتی باڑی تو اب ختم ہوتی جارہی ہے۔ خرچے بہت ہیں بجلی کا بل بھی ہوتا ہے۔ یہ کام اچھا ہے خرچہ نکال کے مہینے کے بارہ تیرہ ہزار بچ جاتے ہیں۔‘

شاہنواز ابھی اس بات سے بے خبر ہیں کہ چند ہزار میں انہوں نے اپنی زندگی کا سودا کرلیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔