فیصل کی لاش پر تشدد کے نشانات تھے: اہلِ خانہ

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 19 جنوری 2013 ,‭ 12:29 GMT 17:29 PST

رینٹل پاور کیس: تفتیشی افسر کی ہلاکت

پاکستان کے شہر اسلام آباد میں قومی احتساب بیورو کے اہلکار کامران فیصل آج اسلام آباد میں اپنی قیام گاہ پر مردہ پائے گئے۔ کامران کرائے کے بجلی گھروں کے معاملے کی تحقیات پر مامور تھے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والی قومی احتساب بیورو کی ٹیم کے تفتیشی افسر کامران فیصل کے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق انہوں نے خودکشی کی تھی۔

تاہم ان کے اہلخانہ نے لاش پر تشدد کے نشانات کی موجودگی کا دعویٰ کرتے ہوئے عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

کامران فیصل جمعہ کی صبح اسلام آباد کے فیڈرل لاجز میں اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے اور ان کی لاش کمرے میں پنکھے سے لٹکی ملی تھی۔

کامران کی میت کو تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقے میاں چنوں لے جایا گیا جہاں سنیچر کی سہ پہر انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

میاں چنوں میں موجود ان کے اہلِ خانہ اور رشتہ داروں نے الزام عائد کیا ہے کہ کامران فیصل کی موت فطری نہیں اور ان کی لاش پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔

کامران کے ماموں اقبال نے جمعہ کو مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاش کو غسل دیتے ہوئے انہوں نے کامران کی کلائی اور کمر پر ایسے نشانات دیکھے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

ان کے اہلخانہ نے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم اسلام آباد میں پولی کلینک ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر شریف استوری کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم میں دیکھا گیا کہ ان کی سانس کی نالی کٹی ہوئی تھی جبکہ ان کے جسم پر تشدد کے نشان نہیں تھے۔

ڈاکٹر شریف استوری نے کہا ہے کہ تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ دو ہفتے بعد آئے گی۔

تھانہ سیکریٹریٹ کے اہلکاروں نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اس معاملے کی رپورٹ تو درج کر لی گئی تھی تاہم ایف آئی آر ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ ملنے کے بعد ہی درج کی جا سکے گی۔

حکومت نے پوسٹ مارٹم کے لیے تین رکنی بورڈ تشکیل دیا تھا جس نے جمعہ کو پولی کلینک میں لاش کا معائنہ کیا۔ کامران فیصل کی لاش کے پوسٹ مارٹم کے بعد ان کے جسم کے نمونے فورنزک ٹیسٹ کے لیے لاہور میں واقع لیبارٹری میں بھیج دیے گئے ہیں۔

میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے کامران فیصل نیب میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے اور وہ فیڈرل لاجز میں رہائش پذیر تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کامران فیصل کے ایک ساتھی افسر کا کہنا ہے کہ وہ رینٹل پاور کیس کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔

کامران فیصل رینٹل پاور کیس کے ان تفتیشی افسران میں سے تھے جن کی تیار کردہ تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر پندرہ جنوری کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف سمیت سولہ افراد کی گرفتاری کے احکامات دیے تھے۔

اسی رپورٹ کو نیب کے چیئرمین نے سترہ جنوری کو ناقص قرار دے دیا تھا اور کہا تھا کہ ملزمان کے خلاف اس معاملے میں ریفرنس ٹھوس ثبوت کے بغیر بنائے گئے ہیں۔

اسی معاملے کی تفتیش کے دوران نیب کے حکام نے کامران فیصل کو ایک اور تفتیشی افسر سمیت یہ کہہ کر تفتیش سے الگ بھی کیا تھا کہ سپریم کورٹ ان کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔

تاہم سپریم کورٹ نے یہ بات نوٹس میں لائے جانے کے بعد انہیں بحال کر دیا تھا اور چیئرمین نیب کو اس معاملے میں توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔