پولیو مہم نہیں رکے گی: بل گیٹس

آخری وقت اشاعت:  اتوار 20 جنوری 2013 ,‭ 18:01 GMT 23:01 PST

مائیکروسافٹ کے بانی بل گیٹس نے کہا ہے کہ پاکستان میں پولیو کے قطرے پلانے والے کارکنوں پر حملوں سے ان کی فاؤنڈیشن کام نہیں روکے گی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق برطانوی اخبار دی ٹیلیگراف کو ایک انٹرویو میں میں بل گیٹس نے کہا کہ کارکنوں پر حملوں کے باعث ہم یہ مہم نہیں روکیں گے۔

’ان حملوں کے باعث ہم مجبور ہیں کہ حکومتِ پاکستان کے ساتھ بیٹھیں اور دیکھیں کہ وہ اس مہم کے کارکنوں کی حفاظت کے لیے کیا قدم اٹھا رہی ہے۔ اور اگر ضرورت ہے تو ان اقدامات میں تبدیلی بھی کی جائے۔‘

یاد رہے کہ بل گیٹس اور ان کی اہلیہ میلنڈا گیٹس کی فاؤنڈیشن بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن پولیو کے خاتمے کے لیے کام کر رہی ہے۔

یہ فاؤنڈیشن پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان، نائیجیریا اور افغانستان میں کام کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ پچھلے سال پاکستان بھر میں پولیو کے 56 کیسز سامنے آئے تھے۔

پاکستان بھر میں پچھلے سال پولیو کے قطرے پلانے والے کارکنان پر کئی بار حملہ کیا گیا جس میں متعدد کارکنان ہلاک ہوئے تھے۔

ان حملوں کے بعد اقوامِ متحدہ نے پاکستان میں جاری پولیو مہم میں شریک اپنے عملے کو واپس بلا لیا ہے اور یونیسف اور عالمی ادارۂ صحت کے فیلڈ سٹاف کو مزید احکامات تک پولیو مہم میں شرکت سے روک دیا گیا۔

پچھلے سال چار قومی اور چار علاقائی مہمات چلائی گئیں، جن کے علاوہ چھوٹے پیمانے پر آگاہی کی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔

دو ہزار گیارہ میں جب یہ بات منظرِ عام پر آئی کہ دنیا میں پولیو کے سب سے زیادہ کیس پاکستان میں پائے گئے ہیں، تو قابو پانے کے لیے حکومت اور مالی امداد فراہم کرنے والی غیر ملکی ایجنسیوں نے اس پر ہنگامی بنیاد پر لائحہِ عمل تیار کیا۔

دارالحکومت میں پولیو سیل قائم کیا گیا۔ ٹیلی وژن اور ریڈیو پر اشتہارات نشر کیے گیے۔ صدر آصف علی زرداری کی بیٹی آصفہ کو پولیو مہم کی سفیر مقرر کیا گیا۔ اور مہم کو ہنگامی بنیادوں پر چلایا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔