نیب افسر کی موت: جوڈیشل کمیشن کی تشکیل

آخری وقت اشاعت:  اتوار 20 جنوری 2013 ,‭ 17:55 GMT 22:55 PST

پاکستان کی وفاقی حکومت نے رینٹل پاور کیس کی تحقیقات کرنے والے تفتیشی افسر کامران فیصل کی موت کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کمیشن دو ہفتے میں اپنی تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے گا۔

یاد رہے کہ کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانی کی تحقیقات کرنے والی قومی احتساب بیورو کی ٹیم کے تفتیشی افسر کامران فیصل جمعہ کو اسلام آباد میں اپنے کمرے میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔

پوسٹ مارٹم کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق کامران فیصل نے خودکشی کی تھی۔

تاہم ان کے اہلخانہ کا دعویٰ ہے کہ کامران کی لاش پر تشدد کے نشانات تھے۔

کامران کے اہلِ خانہ کا مطالبہ تھا کہ حکومت موت کی تحقیقات کے لیے عدالتی تحقیقات کرائے۔

کامران فیصل جمعہ کی صبح اسلام آباد کے فیڈرل لاجز میں اپنے کمرے میں مردہ پائے گئے تھے اور ان کی لاش کمرے میں پنکھے سے لٹکی ملی تھی۔

کامران کی میت کو تدفین کے لیے ان کے آبائی علاقے میاں چنوں لے جایا گیا جہاں سنیچر کی سہ پہر انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا ہے۔

میاں چنوں میں موجود ان کے اہلِ خانہ اور رشتہ داروں نے الزام عائد کیا تھا کہ کامران فیصل کی موت فطری نہیں اور ان کی لاش پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔

کامران کے ماموں اقبال نے جمعہ کو مقامی ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاش کو غسل دیتے ہوئے انہوں نے کامران کی کلائی اور کمر پر ایسے نشانات دیکھے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

تاہم اسلام آباد میں پولی کلینک ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر شریف استوری کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم میں دیکھا گیا کہ ان کی سانس کی نالی کٹی ہوئی تھی جبکہ ان کے جسم پر تشدد کے نشان نہیں تھے۔

ڈاکٹر شریف استوری نے کہا ہے کہ تفصیلی پوسٹ مارٹم رپورٹ دو ہفتے بعد آئے گی۔

تھانہ سیکریٹریٹ کے اہلکاروں نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ اس معاملے کی رپورٹ تو درج کر لی گئی تھی تاہم ایف آئی آر ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ ملنے کے بعد ہی درج کی جا سکے گی۔

میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے کامران فیصل نیب میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے اور وہ فیڈرل لاجز میں رہائش پذیر تھے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق کامران فیصل کے ایک ساتھی افسر کا کہنا ہے کہ وہ رینٹل پاور کیس کی وجہ سے ذہنی دباؤ کا شکار تھے۔

کامران فیصل رینٹل پاور کیس کے ان تفتیشی افسران میں سے تھے جن کی تیار کردہ تفتیشی رپورٹ کی بنیاد پر پندرہ جنوری کو سپریم کورٹ نے وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف سمیت سولہ افراد کی گرفتاری کے احکامات دیے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔