’ساتھی کی موت کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں‘

آخری وقت اشاعت:  پير 21 جنوری 2013 ,‭ 11:12 GMT 16:12 PST

علاقے کے پولیس افسر کے مطابق کامران فصیل کے ساتھیوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اُن کی موت پنکھے سے لٹکنے کی وجہ سے ہوئی ہے

قومی احتساب بیورو کے تفتیشی افسران اور اہلکاروں نے اپنے ساتھی کامران فیصل کی ہلاکت کے خلاف ملک گیر قلم چھوڑ ہڑتال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے ساتھی کی موت کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں۔

ان سرکاری اہلکاروں کا دعویٰ ہے کہ جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں ہوتے وہ اس وقت تک کام شروع نہیں کریں گے۔

ان تفتیشی افسران کے ایک وفد نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری اور دیگر حکام سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں وفد نے چیئرمین کو تفتیشی کام کے سلسلے میں محکمہ اور دیگر متعقلہ حکام کی جانب سے دباؤ اور آزادانہ ماحول نہ ملنے سے متعلق اپنے خدشات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ انہیں محفوظ ماحول فراہم کیا جائے۔

اس وفد نے نیب کے حکام سے کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق مقدمات کی تفتیش کرنے والے کامران فیصل کی موت کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروانے کا بھی مطالبہ کیا۔

اس وفد میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے چیئرمین نیب کو حکومت کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے عدالتی کمیشن پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اہلکاروں کے وفد نے ملاقات میں کہا ہے کہ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے کسی حاضر سروس جج سے اس معاملے کی تحقیقات کروائی جائیں۔

وفد میں شامل اہلکار کے بقول نیب کے حکام نے وفد کو ان کے خدشات حکومت تک پہنچانے کی حامی بھری ہے۔

عدالتی کمیشن پر تحفظات کا اظہار

اس وفد میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے چیئرمین نیب کو حکومت کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے عدالتی کمیشن پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے کامران فیصل کی موت سے متعلق حقائق جاننے کے لیے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جاوید اقبال کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیا ہے جو دو ہفتوں کے اندر اندر اپنی رپورٹ حکومت کو دے گا۔

اس کمیشن نے ابھی تک کام شروع نہیں کیا جبکہ مقامی پولیس نے کامران فیصل کی موت سے متعلق فیڈرل لاجز میں کام کرنے والے سرکاری ملازمین، جہاں پر مزکورہ افسر رہائش پذیر تھے، کے بیانات پر مبنی ایک رپورٹ بھی تیار کر رکھی ہے۔

علاقے کے سب ڈویژنل پولیس افسر لیاقت نیازی کے مطابق ان افراد اور کامران فصیل کے ساتھیوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی موت پنکھے سے لٹکنے کی وجہ سے ہوئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔