’ایجنسیوں کے پاس مدتِ حراست میں اضافے کا جواز نہیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 22 جنوری 2013 ,‭ 07:33 GMT 12:33 PST

’اگر ان افراد کی حراست غیر قانونی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی چاہے وہ کسی بھی عہدے پر فائز کیوں نہ ہوں‘

پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ خفیہ اداروں کے پاس پاڑا چنار میں قید سات افراد کی مدتِ حراست میں اضافے کا اب کوئی جواز موجود نہیں ہے۔

یہ ساتوں افراد راولپنڈی کی اڈیالہ جیل کے باہر سے لاپتہ ہونے والے گیارہ افراد میں شامل تھے جن میں سے دو سگے بھائیوں سمیت چار افراد اب انتقال کر چکے ہیں۔

پیر کو اس معاملے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ بغیر ثبوت کے ان افراد کو حراستی مرکز میں رکھنا غیر قانونی ہے اور اگر ان افراد کی حراست غیر قانونی ثابت ہوئی تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق وکیل استغاثہ اور خفیہ ایجنسیوں یعنی آئی ایس آئی اور ایم آئی کے وکیل راجہ ارشاد نے عدالت کو بتایا کہ یہ افراد فوجی قافلوں پر حملوں میں ملوث ہیں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس کا بھی تو مقدمہ چلتا ہے تو اِن کے خلاف تو اب تک کوئی مقدمہ کسی بھی عدالت میں زیر سماعت کیوں نہیں۔

چیف جسٹس نے راجہ ارشاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ عدالتوں کو ختم کر دیا جائے اور ان کے اختیارات بھی اپنے پاس رکھے جائیں۔

وکیل استغاثہ راجہ ارشاد نے کہا کہ اِن افراد کے خلاف ایسے ثبوت نہیں ملے جن کی بنا پر اِن کے خلاف آرمی ایکٹ کے تحت کارروائی ہو۔

اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر ایسا شہادتیں نہیں ہیں جس پر انہیں حراست میں رکھا جائے تو یہ پھر فیصلہ کس کا تھا اور اگر اس طرح کا کوئی فیصلہ ہے کہ انہیں غیر معینہ مدت کے لیے حراستی مرکز میں رکھا جائے تو اس کو عدالت میں پیش کیا جائے۔

اس کے جواب میں حکام کوئی بھی حکم نامہ پیش نہیں کر سکے۔

اڈیالہ لاپتہ کیس

اُنتیس مئی سنہ دو ہزار نو کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے عدم ثبوت کی بنا پر رہا ہونے والے گیارہ افراد کو خفیہ اداروں کے اہلکار اڈیالہ جیل کے باہر سے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے اور دسمبر دو ہزار دس میں عدالت کو بتایا گیا تھا کہ یہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس کا یہ بھی کہنا تھا کہ اُن حراستی مراکز کے ذمہ داروں سے بھی پوچھنا چاہیے کہ اُنہوں نے کس حیثیت میں ان افراد کو وہاں پر رکھا ہوا ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان افراد کو ملکی مفاد کی خاطر حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے جس پر چیف جسٹس نے راجہ ارشاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت ملکی مفاد کو اُن سے زیادہ جانتی ہے۔

بنچ میں موجود جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریویو بورڈ جو ہر ایک سو بیس دن کے بعد ایسے قیدیوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے اس کے اجلاسوں کی تفصیلات سے عدالت کو آگاہ کیا جائے لیکن کمرۂ عدالت میں موجود فاٹا کے حکام نے اس بارے میں کوئی ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا۔

اس پر اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کھڑے ہو کر عدالت سے کہا کہ اگر عدالت کہے تو آئندہ دس روز میں ریویو بورڈ کا اجلاس بلا کر ان قیدیوں سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ جو بھی کرنا ہے اس بارے میں جلدی کیا جائے اگر ریویو بورڈ کا اجلاس بلانا ہے تو بلائیں۔ اس کے بعد عدالت پھر حکم جاری کرے گی اور اگر ان افراد کی حراست غیر قانونی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی چاہے وہ کسی بھی عہدے پر فائز کیوں نہ ہوں۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت سے استدعا کی کہ ان سات افراد کے مستقبل سے متعلق وفاقی حکومت سے ہدایات لینے کے بارے میں وقت دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ وہ حکومت سے حتمی ہدایات لیکر آئیں بعدازاں اس مقدمے کی سماعت چوبیس جنوری تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اُنتیس مئی سنہ دو ہزار نو کو راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے عدم ثبوت کی بنا پر رہا ہونے والے گیارہ افراد کو خفیہ اداروں کے اہلکار اڈیالہ جیل کے باہر سے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے تھے اور دسمبر دو ہزار دس میں عدالت کو بتایا گیا تھا کہ یہ افراد فوج کی تحویل میں ہیں جبکہ چھبیس جنوری دو ہزار بارہ کو عدالت میں ان افراد کے پارہ چنار میں قید ہونے کی تصدیق کی گئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔