’کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کا عمل مشکل‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 22 جنوری 2013 ,‭ 11:46 GMT 16:46 PST

پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم نے کہا ہے کہ کراچی میں نئی حلقہ بندیاں کرنے کا عمل بہت مشکل ہے۔

یہ بات انہوں نے منگل کو کراچی کے ضلع وسطی کا دورہ کرتے ہوئے کہی جہاں انتخابی فہرستوں کا تصدیقی عمل جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں گھر گھر انتخابی فہرستوں کی تصدیق کا عمل اور نئی حلقہ بندیاں کرنا مشکل امر ہے تاہم سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں عمل کیا جائے گا۔

ان کے بقول وہ اپنے عہدے کو مشن کے طور پر لیتے ہیں اور آزادانہ اور شفاف انتخابات کرانا ہی ان کا مشن ہے جس کے بغیر اب وہ نہیں جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابی فہرستوں کی تصدیق کے دوران فوج کی ضرورت نہیں پڑی ہے اور کور کمانڈر کراچی کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر الیکشن کمیشن کے عملے کو فوج کی مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔

یاد رہے کہ ستائیس نومبر کو سپریم کورٹ نے سیکرٹری الیکشن کمیشن کو کراچی میں نئی حلقہ بندیوں پر لائحہ عمل طے کرکے تین دن میں عدالت کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتِ عظمیٰ نے ہدایت کی تھی کہ کراچی میں انتخابی حلقوں کی ازسر نو حد بندی اس طرح کی جائے کہ کسی ایک گروپ یا سیاسی جماعت کی اجارہ داری قائم نہ ہو۔

عدالت نے سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد کو ہدایت کی کہ تین دن کے اندر سندھ حکومت سے مشاورت کرکے کراچی میں انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کا طریقۂ کار طے کریں اور رپورٹ عدالت میں پیش کریں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔