انتخابی ضابطۂ اخلاق کی منظوری

آخری وقت اشاعت:  بدھ 23 جنوری 2013 ,‭ 15:39 GMT 20:39 PST

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے انتخابات کے لیے انتخابی اصلاحات اور ضابطۂ اخلاق کے مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے۔

کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل کے مطابق قومی اسمبلی کے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی کے ساتھ پچاس ہزار جبکہ صوبائی اسمبلی کے امیدواروں کو پچیس ہزار روپے فیس جمع کرانا ہو گی۔

منظور شدہ مسودے کے تحت جعلی ووٹ ڈالنے والے ووٹر پر ایک لا کھ روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق انتخابات میں جعل سازی کرنے والے افراد کو ایک لاکھ روپے جرمانہ اور پانچ سال تک قید کی سزا دی جا سکے گی۔

ڈائریکٹر جنرل الیکشن نے کہا کہ کراچی میں ووٹروں کی تصدیق کا عمل دس مارچ تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے الیکشن کمیشن نے بدھ کو منعقد ہونے والے اجلاس میں بھرتیوں پر پابندی عائد کرنے کے بارے میں حکومتی اعتراض کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ پابندی آئین کی دفعہ دو سو اٹھارہ کے تحت عائد کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کمیشن نے گیارہ نئی سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کی بھی منظوری دی۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے پاکستان کے الیکشن کمیشن نے عام انتخابات تک ہر قسم کے اسلحہ لائسنس کے اجراء پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کی تھی۔

یہ تجویز دو جنوری کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں دی گئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔