اسلام آباد: سینیٹ میں فیئر ٹرائل بل پیش

آخری وقت اشاعت:  بدھ 23 جنوری 2013 ,‭ 13:38 GMT 18:38 PST
پاکستانی پارلیمنٹ

پاکستانی پارلیمنٹ میں ایوان بالا کے سیشن میں یہ بل پیش کی گئی ہے۔

پاکستان کے وزیر قانون فاروق ایچ نائک نے ایوانِ بالا یعنی سینیٹ میں ’فیئر ٹرائل جانچ بل دوہزار بارہ‘ پیش کیا ہے۔

وزیر قانون نے فیئر ٹرائل جانچ بل دوہزار بارہ کو پیش کیا تو چیئرمین سینیٹ نے مجوزہ بل کو متعلقہ مجلس قائمہ کے حوالے کردیا اور یہ حکم جاری کیا کہ اس ضمن میں آئندہ منگل سے قبل رپورٹ پیش کی جائے۔

سینیٹ کی کارروائی کے دوران دفاع اور دفاعی سازوسامان پر مجلس قائمہ کمیٹی کے صدر مشاہد حسین سید نے اخباروں میں کشمیر میں جوہری جنگ کے متعلق شائع خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور پاکستان کو اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں اٹھانا چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کنٹرول لائن پر موجودہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر کوشش کی جانی چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ رپورٹ بھارتی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارت ہمارے دوطرفہ تعلقات کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں پاکستانی فوج کے ساتھ یکجہتی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

سینیٹ کی کارروائی جمعرات ساڑھے دس بجے پھر شروع ہوگی۔

یاد رہے کہ فیئر ٹرائل بل کو قومی اسمبلی منظور کر چکی ہے۔ اس بل کے تحت چھ سکیورٹی ایجنسیوں کو مشتبہ افراد کے ٹیلیفون ٹیپ کرنے، ای میل کی نگرانی اور سی سی ٹی وی سمیت جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شواہد اکٹھے کرنے کی اجازت ہو گی۔

ٹیکنالوجی کی نگرانی کے ذریعے حاصل کردہ ان معلومات کو عدالتوں میں بطور شہادت بھی پیش کیا جا سکے گا۔

اس بل کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اختیارات کو بھی ریگولیٹ کیا جائے گا۔

بل کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور انٹیلی جنس ایجنسیوں پر شواہد اکٹھے کرنے کے حوالے سے ایک جیسا قانون لاگو ہو گا۔ اگرچہ یہ شواہد ایف آئی آر کاٹنے سے قبل اکٹھے کیے گئے ہوں پھر بھی یہ شواہد عدالت میں پیش کیے جاسکیں گے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔