کراچی:ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ، دو دن میں 23 ہلاک

آخری وقت اشاعت:  بدھ 23 جنوری 2013 ,‭ 08:23 GMT 13:23 PST

پولیس کا کہنا ہے کہ کراچی میں ہلاک ہونے والے تمام افراد کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا ہے

پاکستان کے تجارتی مرکز کراچی میں ہدف بنا کر ہلاک کرنے کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر تیزی آ گئی ہے اور پولیس کے مطابق گزشتہ دو دن میں ایسے واقعات میں تئیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

ہلاک ہونے والے افراد میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما اور کراچی کے ایک ہسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرٹنڈنٹ بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق پیر کو بارہ افراد کی ہلاکت کے بعد منگل کو رات گئے تک مزیدگیارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان تمام افراد کو ہدف بنا کر قتل کیا گیا ہے اور ابتدائی تفتیش سے معلوم ہوا ہے کہ قتل کی ان وارداتوں میں حملہ آور دو یا دو سے زیادہ تھے۔

منگل کی رات شہر کے متمول علاقے ڈیفنس میں پاکستان مسلم لیگ ن سندھ کے جوائنٹ سیکریٹری تیمور اور ان کے والد کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔

ان دونوں کی لاشوں کو گِزری میں واقع ہسپتال لایا گیا جہاں مشتعل افراد نے گِزری کی سڑک پر ٹائر جلا کر ٹریفک کے لیے سڑک بند کر دی جسے رات گئے پولیس نے ٹریفک کے لیے دوبارہ بحال کیا۔

پولیس منگل کی رات کو ہونے والے دہرے قتل کے ملزمان کا پتہ لگانے کی کوشش کررہی ہے لیکن اب تک اس کے ہاتھ کوئی ایسا سراغ نہیں لگا ہے جس کے ذریعے وہ قاتلوں تک پہنچ سکے۔

"کراچی میں دو کروڑ کے لگ بھگ آبادی ہوچکی ہے جبکہ پولیس کی نفری انتیس ہزار اور رینجرز کے گیارہ ہزار اہلکار تعینات ہیں۔ کراچی کے باسی روزانہ لاقانونیت کا جابجا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن قانون نام کی چڑیا انہیں کہیں نظر نہیں آتی۔"

ارمان صابر بی بی سی کراچی

پولیس ترجمان ایس ایس پی عمران شوکت کا کہنا ہے کہ منگل کو ہی نارتھ کراچی کے علاقے میں ڈاکٹر حسن عالم کو اس وقت ان کی سرکاری گاڑی میں نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے نجی کلینک سے گھر جارہے تھے۔ وہ گورنمنٹ ہسپتال نیو کراچی میں ڈپٹی میڈیکل سپرٹنڈنٹ تھے۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے ڈاکٹر حسن عالم کے قتل کی بھرپور الفاظ میں مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔

نیو کراچی ہی میں ایک اور واقعہ میں سی آئی ڈی پولیس کے ایک انسپکٹر کو بھی گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

ان واقعات کے علاوہ ماری پور، گلشنِ اقبال، بغدادی، اور سعیدآباد کے علاقوں میں سات دیگر افراد کو قتل کیا گیا۔

پیر کو بھی پولیس کے مطابق بارہ افراد کو قتل کیا گیا تھا جبکہ گزشتہ ہفتے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں صوبائی اسمبلی کے رکن اور ایم کیو ایم کے رہنماء منظر امام بھی مسلح افراد کی فائرنگ کا نشانہ بن چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔