’نیب وزیر اعظم، وزیر داخلہ کے خلاف ریفرنس دائر کرے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 24 جنوری 2013 ,‭ 11:45 GMT 16:45 PST

راجہ پرویز اشرف نے بحثیت وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی توقیر صادق کی چیئرمین اوگرا کی تقرری کی منظوری دی تھی

سپریم کورٹ نے نیب کے حکام کو آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کے چیئرمین کی تقرری اور اُنہیں بیرون ملک فرار کروانے کے حوالے سے وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور حکمراں جماعت کے سیکریٹری جنرل سمیت دیگر افراد کے خلاف سات روز میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا ہے۔

سپریم کورٹ نے یہ حکم قومی احتساب بیورو (نیب) حکام کی طرف سے چیئرمین اوگرا توقیر صادق کی تقرری سے متعلق عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران پیش کی گئی رپورٹ کی روشنی میں دیا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے عمل درآمد کے مقدمے کی سماعت کی۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق نیب کے فنانشل کرائم ونگ کے ڈائریکٹر عرفان بیگ نے عدالت کو بتایا کہ توقیر صادق کی گرفتاری کے لیے ٹیم دبئی روانہ ہوئی تھی اور اس ماہ کی چھ تاریخ کو اُنہیں دبئی پولیس نے حراست میں بھی لیا تھا لیکن بعد میں پولیس نے اُنہیں رہا کردیا۔

بینچ میں موجود جسٹس خلجی عارف حیسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے نوٹس میں ہے کہ جو افراد توقیر صادق کی گرفتاری کے لیے گئے تھے اُن کے پاس گرفتاری کے وارنٹ بھی موجود نہیں تھے۔

اُنہوں نے کہا کہ نیب اپنا موٹو تبدیل کرلے اور کہے کہ اب نیب کسی بھی بااثر افراد کو گرفتار نہیں کرے گی۔

نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل چوہدری مظہر نے عدالت کو بتایا کہ وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف توقیر صادق کی تقرری سے متعلق تحققیات جاری ہیں۔

یاد رہے کہ راجہ پرویز اشرف نے بحثیت وفاقی وزیر برائے پانی وبجلی توقیر صادق کی چیئرمین اوگرا کی تقرری کی منظوری دی تھی۔

ملزم توقیر صادق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر جہانگیر بدر کے قریبی عزیز بتائے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ توقیر صادق پر بیاسی ارب روپے کی بدعنوانی کا الزام ہے۔

نیب کے اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ توقیر صادق کو بیرون ملک فرار کروانے میں وزیر داخلہ رحمان ملک اور سینیٹر جہانگیر ملوث ہیں۔

جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ پولیس اور ایف آئی اے کے بعد وزارت خارجہ کی جانب سے بھی توقیر صادق کی گرفتاری سے متعلق کوئی تعاون نہیں کیا جا رہا۔

بینچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ جوافراد بیرون ملک فرار ہوئے ہیں اُن کو تو ایک طرف رکھیں جو لوگ پاکستان میں موجود ہیں اُن کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے یا نہیں۔

فنانشل ونگ کے ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں موجود افراد کے خلاف تفتیش مکمل ہے اب صرف چیئرمین نیب کی حتمی منظوری درکار ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین نیب ایگزیکٹو بورڈ کے آئندہ اجلاس میں اس کی منظوری دیں گے۔

بینچ میں موجود خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ جب چیئرمین نیب کو معلوم ہوگا کہ اس میں اہم شخصیات ملوث ہیں تو شائد وہ اس پر دستخط کرنا بھول جائیں۔

بینچ کے سربراہ نے نیب کے اہلکاروں سے کہا کہ متعلقہ حکام سے پوچھ کر بتائیں کہ ان افراد کے خلاف ریفرنس کب دائر ہوگا۔

اس مقدمے کی سماعت اکتیس جنوری تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔