ایل او سی کشیدگی: امن کے عمل میں دراڑ؟

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 25 جنوری 2013 ,‭ 15:43 GMT 20:43 PST

پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آف کنٹرول پر ہونے والی حالیہ کشیدگی نے کیا دونوں ممالک کےدرمیان جاری امن کے عمل میں ایک بار پھر دراڑ ڈال دی ہے؟

جہاں ایک جانب بہت سے افراد شدت پسندی اور مخالفانہ روش اپنائے ہوئے ہیں وہیں بہت بڑا طبقہ ایسے افراد کا بھی ہے جو ہوشمندی اور دانشمندانہ سوچ اپنانے کی بات کرتا ہے۔

اس سارے عمل میں دونوں ممالک کے میڈیا کے کردار پر بھی سوالیہ نشان ہیں جس میں بھارتی میڈیا کے کردار کو مبصرین آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں اور اس پر امن کے عمل کو پٹڑی سے اتارنے کا الزام عائد کر رہے ہیں۔

اس عمل میں بہت سے افراد نے مخلتف مواقع کا حوالہ دیا جب مثبت بات کو دبانے کی دانستہ کوشش نظر آئی جیسا کہ پاکستان کے سابق صدر مشرف کا ایک انٹرویو ہے جس میں ان کے ساتھ بات کو مختصر کر دیا گیا جب انہوں نے یہ بات کہی کہ بھارتی فوج اور میڈیا یہ سارا بے بنیاد پروپیگینڈہ تیار کر رہا ہے۔ دوسری جانب ارندھتی رائے کے ساتھ بھی ایک پروگرام میں یہی سلوک روا رکھا گیا۔

اس سارے عمل کا آغاز لائن آف کنٹرول پر ہونے والی بعض کارروائیوں کے بعد ہوا جس میں دونوں ممالک ایک دوسرے پر الزام عائد کر رہے ہیں۔

ایسی ہی بات پاکستانی ہفت روزہ فرائڈے ٹائمز کے مدیر نجم سیٹھی نے اپنے اداریے میں کہی کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کے عمل کو میڈیا نے پٹری سے اتارا ہے۔ ان کے اداریے کا عنوان تھا ’پاکستان بھارت امن کے عمل کو پٹری سے مت اتاریں‘۔

مگر اس سارے عمل میں بہت سے افراد بھارت کی جانب سے مختلف اقدامات پر تنقید بھی کر رہے ہیں جیسا کہ پاکستانی ہاکی کھلاڑیوں کی پاکستان واپسی اور جے پور کے ادبی میلے میں پاکستانی مصنفوں کی شرکت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی دھمکیاں ہیں۔

شوانی نائک نے انڈین ایکسپریں میں لکھا کہ ’پاکستانی مرد اور خواتین کھلاڑیوں کو واپس بھجوانے میں بھارت نے تہذیب اور شرافت کی کمی کا مظاہرہ کیا ہے‘۔

پاکستان کے معروف مصنف جمیل احمد نے گزشتہ روز کہا ’مجھے بہت دکھ ہے کہ پاکستان کے اجوکا تھیٹر گروپ کے ساتھ تذلیل آمیز سلوک کیا گیا۔ لوگوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے برسوں تک دونوں ممالک کے لوگوں کو قریب لانے کے لیے انتھک محنت کی ہے، یہ لوگ دوستی کے لیے کام کر رہے ہیں اور یہ بہت دکھ کی بات ہے کہ ان کو ڈرامہ پیش کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔‘

دونوں جانب امن کے حامیوں کی بھی کمی نہیں ہے

اسی طرح بھارتی ریاست راجھستان کے وزیر اعلیٰ اشوک گیہلٹ نے بی جے پی سمیت تین گروہوں کی جانب سے دی گئی دھمکیوں کے بارے میں کہا کہ ’ہم سب پاکستانی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر کی جانے والی کارروائی کی مذمت کرتے ہیں مگر پاکستانی ادیبوں اور مصنفوں کے ایسے ادبی میلے میں شرکت کو سیاسی مسئلہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ بعض اوقات کھلاڑی، فنکار، مصنف اس طرح کے تناؤ کو کم کرتے ہیں۔‘

پاکستانی انگریزی اخبار ایکسپریس ٹریبیوں سے وابستہ عمر قریشی نے اس بارے میں ٹویٹ کی کہ ’بھارت میں پاکستانیوں کی کوریج تو بھارتی میڈیا کر رہا ہے مگر اسے سکیورٹی، دہشت گردی اور کشمیر کے آئینے میں رکھتے ہوئے۔ مگر عموماً پاکستان کے خلاف کوئی معاندانہ رویہ نہیں تھا۔‘

اسلام آباد سے مرتضیٰ سولنگی نے ٹویٹ کر کے دونوں جانب کے حالات بگاڑنے والوں اور سدھارنے والوں کے بارے میں لکھا کہ ’دونوں جانب حالات بگاڑنے والے کے باوجود ہوشمند افراد بھی ہیں جو کہ ہمیشہ پاکستان اور بھارت کے لوگوں کے درمیان تعلق کی ترویج کے لیے کام کرتے رہتے ہیں‘۔

حال ہی میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ سیریز کا کامیاب انعقاد کیا گیا تھا جس میں دونوں ممالک کے افراد کو ملنے کا موقع ملا

پاکستانی کھلاڑیوں اور فنکاروں پر پاکستان میں کئی افراد نے تنقید کی کہ وہ گئے ہی کیوں بھارت اور ان کے ساتھ سلوک کے بارے میں لکھا گیا کہ ان کے پیسے کے لالچ کی وجہ سے ان کے ساتھ یہ سلوک ہوا۔

اسی طرح بھارت سے سنتوش نے ٹویٹ کی کہ ’میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی سول ملٹری قیادت بھارت کے ساتھ تصادم نہیں چاہتی ہے۔ جہادیوں کو قابو میں لانا ایک امتحان۔۔۔‘

بی بی سی کے فیس بک صفحے پر ایک قاری نے لکھا کہ ’جی یہ ضروری تھا ورنہ یہ ثابت کیسے ہوتا کہ قلم بشمول فنکار تلوار سے زیادہ طاقتور ہے۔‘

پاکستان کے معروف کالم نگار ندیم فاروق پراچہ نے ٹویٹ کی کہ ’بھارت اور پاکستان کے جوہری ہتھیار دونوں ممالک کی کھوکھلی انا کا اظہار ہیں۔ ان میں سے ہوا نکالی جانی چاہیے اس سے پہلے کہ یہ پھٹ جائیں‘۔

سوال یہ ہے کہ اس سارے نفرت اور امن کے کھیل میں نقصان کس کا ہو رہا ہے؟ دوسری جانب اس سارے عمل میں کیا بھارتی میڈیا اس سڑک پر تو نہیں چل نکلا جس کی منزل دو ہزار چودہ بھارتی عام انتخابات ہیں؟

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔