ڈیرہ بگٹی میں تشدد کے واقعات میں دو ہلاک

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 26 جنوری 2013 ,‭ 17:49 GMT 22:49 PST

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے شہر ڈیرہ بگٹی میں تشدد کے مختلف واقعات میں دو افراد ہلاک جبکہ تین زخمی ہو گئے ہیں جبکہ پانچ افراد کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں سے ایک شخص اور تمام مغویوں کا تعلق امن فورس سے ہے۔

لیویز فورس ڈیرہ بگٹی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایاکہ امن فورس پر حملہ سنیچر کو علی الصبح گنڈوئی کے علاقے دلبرمٹ میں پیش آیا۔

یہ حملہ نامعلوم مسلح افراد نے اس علاقے میں قائم امن فورس کے ایک کیمپ پر کیا۔

اس حملے میں امن فورس سے تعلق رکھنے والا ایک شخص ہلاک اورتین زخمی ہوئے جبکہ حملہ آور امن فورس کے پانچ افراد کو اغوا کر کے لے گئے ۔

ڈیرہ بگٹی میں تشدد کا دوسرا واقعہ ٹلی مٹ کے علاقے میں پیش آیا جہاں بارودی سرنگ کے ایک دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

لیویز فورس کے مطابق اس علاقے میں نامعلوم افراد نے بارودی سرنگ بچھائی تھی جس سے ایک موٹر سائیکل کے ٹکرانے کی وجہ سے زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل پر سوار ایک شخص ہلاک اور دوسرا زخمی ہوگیا۔

ڈیرہ بگٹی کا شمار بلوچستان کے ان علاقوں میں ہوتا ہے جو کہ دو ہزار کے بعد سے شورش سے متاثر ہیں۔

ڈیرہ بگٹی میں قیام امن کے لیے چند سال بیشتر ایک امن فورس تشکیل دی گئی تھی جس کے افراد اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔

ادھرکوئٹہ میں ایک شہری کی ہلاکت کے الزام میں پولیس کے ایک اے ایس آئی سمیت تین اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے جن کو شہر کے مغربی بائی پاس کے علاقے خروٹ آباد میں ہلاک کیا گیا تھا۔

پولیس کا مؤقف ہے کہ خروٹ آباد پولیس کے ایک چھاپے کے دوران یہ شخص فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوا جبکہ ہلاک ہونے والے شخص کے رشتہ داروں کا موقف ہے کہ پولیس کے اہلکاروں نے اسے بلاجواز ہلاک کیا ہے۔

اس ہلاکت کے واقعہ کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا تھا۔

اس شہری کے قتل کا مقدمہ چھاپے میں شامل ایک اے ایس آئی سمیت تین اہلکاروں کے خلاف درج کیا گیا تھا جن کو ہفتہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔