شاہ زیب قتل: اہم ملزم کو بچہ جیل بھیج دیا گیا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 26 جنوری 2013 ,‭ 12:01 GMT 17:01 PST

کراچی میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے نوجوان شاہ زیب کے قتل کیس میں اہم ملزم شاہ رخ جتوئی کو بچہ جیل بھیج دیا ہے اور مقدمہ کی سماعت انتیس جنوری تک مؤخر کردی ہے۔

شاہ رخ جتوئی کو سترہ جنوری کو عدالت نے ریمانڈ پر پولیس کے سپرد کردیا تھا جس کی معیاد چوبیس جنوری کو ختم ہوگئی۔ سنیچر کو شاہ رخ جتوئی کو دیگر ملزمان سراج تالپور، سجاد تالپور، اور غلام مصطفٰی لاشاری کے ساتھ دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا۔

سپیشل پراسیکیوٹر عبدالمعروف نے عدالت کو بتایا کہ ملزم سراج تالپور نے دورانِ تفتیش بتایا تھا کہ آلۂ قتل ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے فیز آٹھ، ایکس ٹین کے بس سٹاپ کے قریب سمندر میں پھینک دیا گیا تھا جسے بعد میں سمندر سے برآمد کر لیا گیا اور ملزم کے خلاف اسلحہ آرڈیننس کی دفعہ تیرہ ای کے تحت درخشاں تھانے میں پستول کی برآمدگی کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔

عدالت میں شاہ رخ جتوئی کی عمر کے تعین کے حوالے سے ایک طبی سرٹیفکیٹ بھی جمع کرایا گیا جس کے تحت جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر، کراچی میں تعینات ایڈیشنل پولیس سرجن ڈاکٹر جلیل قادر نے شاہ رخ جتوئی کا معائنہ کیا۔

سرٹیفیکیٹ میں تحریر ہے کہ شاہ رخ جتوئی کا وزن ستر کلوگرام، اور قد پانچ فٹ نو انچ جبکہ عمر سترہ یا اٹھارہ سال کے درمیان ہوسکتی ہے۔

مقدمہ کے تفتیشی افسر مبین نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کو ملزمان سے فی الحال مزید تفتیش کی ضرورت نہیں ہے۔ تفتیشی افسر کے بیان کی روشنی میں عدالت نے ملزمان کو انتیس جنوری تک جیل بھیجنے کے احکامات صادر کیے۔

عدالت کے حکم کے مطابق، چونکہ شاہ رخ جتوئی اب تک اٹھارہ سال کا نہیں ہوا ہے لہذٰا اسے بچہ جیل بھیجا جائے جبکہ باقی تینوں ملزمان سراج جتوئی، سجاد جتوئی اور غلام مصطفٰی لاشاری کو سینٹرل جیل بھیجا جائے۔

پولیس کے تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمہ میں دو ملزمان آصف لُند اور سلمان جتوئی مفرور ہیں جنہیں گرفتار کرنے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پولیس افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان ملزمان پر الزام ہے کہ ان دونوں نے قتل کے ملزمان کو دادو میں پناہ دی تھی۔

یاد رہے کہ شاہ رخ جتوئی کو سپریم کورٹ کے احکامات پر دبئی سے گرفتار کرکے کراچی لانے کے بعد سترہ جنوری کو عدالت کے سامنے پیش کیا گیا تھا۔

نوجوان شاہ زیب کو گزشتہ برس پچیس دسمبر کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں گولیاں مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

شاہ زیب کی ہلاکت کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹس ٹوئٹر اور فیس بک پر اس قتل کی مذمت کے لیے مہم کا آغاز کیا گیا تھا جس پر قانونی کارروائی چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری کے ازخود نوٹس لینے کے بعد عمل میں آئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔