’امن کی طرف قدم بڑھتے رہنے چاہیئیں‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 29 جنوری 2013 ,‭ 19:12 GMT 00:12 PST

لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی وجہ سے بس سروس معطل کر دی گئی تھی

بیس دنوں کے معطلی کے بعد پاکستانی حکام نے پیر سے راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان تجارت اور بس سروس بحال کردی ہے اور دونوں طرف سے لگ بھگ 140 مسافر آر پار گئے ہیں جن میں زیادہ تر وہ تھے جو بس سروس کی معطلی کے باعث لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف پھنس گئے تھے۔

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں حکام کا کہنا ہے کہ 59 مسافر لائن آف کنٹرول کے اس جانب سے دوسری طرف گئے جب کہ 89 افراد اُس پار سے اِس طرف آئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اِس طرف سے جانے والوں میں 40 افراد کا تعلق بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے تھا اور ان کے اجازت ناموں کی معیاد ختم ہوچکی تھی جب کہ پندرہ افراد اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے لائن آف کنٹرول کے اس پار گئے۔

حکام کے مطابق اسی طرح سے بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے آنے والے تمام مسافروں کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے ہے اور وہ بس سروس کی معطلی کی وجہ سے اس پار پھنس گئے تھے اور ان کے اجازت ناموں کی معیاد بھی ختم ہوچکی تھی۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طے پانے طریقہ کار کے مطابق بس پر آر پار سفر کرنے والے افراد زیادہ سے زیادہ 45 روز تک ایک دوسرے کے علاقے میں رہ سکتے ہیں۔

بٹے ہوئے کشمیری خاندان راولاکوٹ پونچھ بس سروس کی بحالی پر خوش ہیں۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیچر جاوید اقبال 57 دنوں بعد اپنے گھر واپس پہنچے ہیں۔ انھوں نے کہا ’بس سروس جاری رہنے چاہیے کیوں کہ کشمیر کےزیادہ تر خاندان بٹے ہوئے ہیں اور یہ ان کو آپس میں ملنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔‘

’بس سروس جاری رہنی چاہیے، امن کی طرف جو قدم بڑھے ہیں یہ قدم آگے چلنے چاہیئیں۔۔۔اس سے محبتیں بڑھیں گی، ایک دوسرے کو دیکھنے کا موقع ملے گا، ایک دوسرے سے بات کرنے کا موقع ملے گا اور یہ جو تناؤ پیدا ہوا یہ خود بخود ختم ہوجائےگا۔‘

اس ماہ کے اوائل میں لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان جھڑپوں کے بعد پاکستانی حکام نے راولاکوٹ پونچھ بس سروس اور تجارت معطل کردی تھی۔

"بس سروس جاری رہنی چاہیے، ان کی طرف جو قدم بڑھے ہیں یہ قدم آگے چلنے چاہیے۔۔۔اس سے محبتیں بڑھیں گی، ایک دوسرے کو دیکھنے کا موقع ملے گا، ایک دوسرے سے بات کرنے کا موقع ملے گا اور یہ جو تناؤ پیدا ہوا یہ خود بخود ختم ہوجائےگا۔"

ٹیچر جاوید اقبال

لائن آف کنٹرول پر دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی حالیہ جھڑپوں میں تین پاکستانی جب کہ دو بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔

اس سے پہلے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے لائن آف کنٹرول کے آر پار سفر اور تجارت کے لیے قائم ادارے کے سربراہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمد اسماعیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ’لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کم ہوئی ہے، اور کچھ دنوں سے فائرنگ بھی نہیں ہوئی اس وجہ سے (راولاکوٹ پونچھ) بس سروس اور تجارت بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔‘

سردار محمد کسیم خان نے جو اسی راستے سے لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کرتے ہیں کہا ’بہت اچھا اقدام ہے کہ تجارت بحال ہوئی ہے، لیکن خدشات اسی طرح سے برقرار رہتے ہیں،گولی اور تجارت ایک ساتھ تو نہیں چل سکتی ہے، بہرحال خوش آئند بات ہے کہ فائر بندی رہے اور تجارت اور سفری سہولت جاری رہے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ تجارت معطل ہونے کی وجہ سے دونوں طرف کے تاجروں کو مجموعی طور پر پانچ کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ راولاکوٹ پونچھ بس سروس ہفتے میں ایک دن پیر کو چلتی ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق ایک طرف سے صرف 60 مسافر لے جاسکتے ہیں۔ لیکن ان میں وہ لوگ شامل نہیں ہوتے جو اپنے گھروں کو واپس جاتے ہیں۔

اسی طرح سے اس راستے سے منگل سے جمعے تک چار روز تجارت ہوتی ہے اور ایک دن 25 ٹرک مال لے کر ایک طرف سے دوسری طرف جاسکتے ہیں۔

گذشتہ سال جون میں بھی لائن آف کنٹرول پر ہندوستان اور پاکستان کی فوجوں کے درمیان گولہ باری اور فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان بس سروس اور تجارت دو ہفتوں تک معطل رہی تھی۔ البتہ ان جھڑپوں کے نتیجے میں مظفرآباد سرینگر بس سروس اور تجارت پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سیاسی تجزیہ نگار ارشاد محمود نے کہا ’جو بھی حالات ہوں اور جو بھی مشکلات ہوں ہندوستان اور پاکستان کو لائن آف کنٹرول کے آر پار سفری اور تجارتی سہولتوں کو کسی بھی صورت معطل نہیں کرنا چاہیے، اس کی علامتی اہمیت ہے، یہ کشمیریوں کی یکجہتی کی علامت ہے اور یہ ریاست جموں کشمیر میں امن کی بھی علامت ہے۔’

ارشاد محمود نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کو لائن آف کنٹرول کے آر پار سفر کے طریقے کار کو مزید آسان بنانا چاہیے، کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان تمام روایتی راستے کھولے جانے چاہئیں اور لوگوں کے درمیان ملنے جلنے کے عمل کو کسی بھی صورت میں نہیں روکا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ اس سہولت کو صرف بٹے ہوئے کشمیری خاندانوں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ عام کشمیریوں کو بھی بس کے ذریعے بھی آر پار جانے دیا جائے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔