’پنجاب میں دو صوبوں کا بل پیش کریں گے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 29 جنوری 2013 ,‭ 19:47 GMT 00:47 PST

مسلم لیگ نون نے پارلیمانی کمیشن کی طرف سے صوبے میں دو کی بجائے ایک صوبہ بنانے کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے پنجاب میں دو نئے صوبوں کے قیام کے لیے پارلیمان میں ترمیمی بل پیش کرنے کا بھی اعلان کیاہے۔

اس بات کا اعلان قومی اسمبلی میں قائد حزب مخالف چودھری نثار علی خان نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

چودھری نثار علی خان نے بتایا کہ ان کی جماعت مسلم لیگ نون پارلیمان میں پنجاب اسمبلی کی قرار دادوں اور صدارتی ریفرنس کے مطابق بہاولپور اور جنوبی پنجاب کو الگ الگ صوبہ بنانے کے لیے ترمیمی بل پیش کرے گی۔

سنیچر کو پاکستان کی پارلیمان کی جانب سے پنجاب میں نئے صوبوں یا صوبے کے قیام کے لیے مقرر کیے گئے پارلیمانی کمیشن نے جنوبی پنجاب کے علاقے پر مشتمل ایک نئے صوبے ’بہاولپور جنوبی پنجاب‘ کی تجویز کی منظوری دے دی ہے۔

قائد حزب مخالف نے وضاحت کی کہ پنجاب اسمبلی کی نئے صوبوں کی تشکیل کے لیے پنجاب اسمبلی کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے قومی اسمبلی میں ترمیمی بل کیا جائے گا۔

چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ آئینی طور وفاق کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی کی مرضی کے لیے بغیر صوبائی حدود میں ردوبدل کرے۔

انہوں نے بتایا کہ پنجاب اسمبلی اپنی دو متفقہ قرار دادوں کے ذریعے نئے صوبوں کی نشاندہی کردی ہے اور اب اس میں تبدیلی کرنا وفاق کے دائرہ کار میں نہیں ہے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ شہباز شریف نے الزام لگایا کہ بہاولپور اور جنوبی پنجاب کو ایک صوبہ بنانا ڈھونگ ہے۔ان کے بقول بہاولپور اور دیگر اضلاع کو ملکر ایک صوبہ بنانا آدھا تیترا اور آدھا بٹیرے بنانے کے مترادف ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کو الگ الگ صوبہ بنانا اُس قراردادوں کا حصہ ہے جو پنجاب اسمبلی نے متفقہ طور پر منظور کیں۔

شہبازشریف نے اعلان کیا کہ ان کی جماعت مسلم لیگ نون بہاولپور اور جنوبی پنجاب کو الگ الگ صوبہ بنائیں گے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب نے صدر آصف علی زرداری پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ جب جنوبی پنجاب سیلاب میں ڈوبا ہواتھا اس وقت صدر پاکستان بیرون ملک دورے پر تھے لیکن آج وہ جنوبی پنجاب کے حقوق کی بات کررہے ہیں۔

شہباز شریف کے بقول صدر آصف علی زرداری انتخابات اور نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے کو التوا میں ڈالنا چاہتے ہیں۔

ادھر ضلع میانوالی کو مجوزہ نئے صوبے یعنی بہاولپور جنوبی پنجاب میں شامل کرنے کے خلاف شہر میں احتجاج کیا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔