بلوچستان: مختلف علاقوں سے آٹھ لاشیں برآمد

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 31 جنوری 2013 ,‭ 22:05 GMT 03:05 PST

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کے مختلف علاقوں سے بدھ کے روز آٹھ افرادکی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

تشدد زدہ نعشوں میں سے چار ڈیرہ بگٹی، تین کوئٹہ اور ایک آواران سے برآمد ہوئی ہیں۔

ڈیرہ بگٹی میں لیویز فورس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا چار افراد کی نعشیں پیر کوہ کے علاقے سے دوپہر ساڑھے بارہ بجے برآمد کی گئیں۔

چاروں افراد کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلا ک کیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت نیک محمد، مزارخان، نورالدین اور سبزعلی کے نام سے ہوئی ہے۔

کو ئٹہ سے تین افراد کی ہاتھ پاؤں بندھی نعشیں مشرقی بائی پاس کے علاقے بھوسہ منڈی کے قریب پہاڑ کے دامن سے ملی تھیں۔

کوئٹہ انتظامیہ کے مطابق تینوں افراد کو گولیاں مارکر ہلاک کیا گیا تھا۔ لیویز فورس نے نعشوں کو شناخت کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا ہے۔

ادھر آواران کے ضلع سے بھی ایک شخص کی تشدد زدہ نعش برآمد ہوئی ہے۔

بلوچستان کے مختلف علاقوں سے سنہ دو ہزار نو کے بعد سے تشدد زدہ نعشوں کی بر آمدگی کا سلسلہ شروع ہوا۔

گزشتہ سال اکتوبر سپریم کورٹ میں محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کی جانب سے جو رپورٹ پیش کی گئی تھی اس کے مطابق اکتوبر تک بلوچستان سے چار سو سے زائد افراد کی نعشیں بر آمد ہوئی تھیں۔

جبکہ اکتوبر کے بعد بھی کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں سے تشدد زدہ نعشیں برآمد ہوئی ہیں۔

سپریم کورٹ نے تشدد زدہ افراد کی نعشوں کی تحقیقات کا معاملہ سی آئی ڈی پولیس بلوچستان کے حوالے کر نے کا حکم دیا تھا۔

تاحال اس سلسلے میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔