پنجاب میں نیا صوبہ، کمیشن نے رپورٹ پیش کر دی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 30 جنوری 2013 ,‭ 18:10 GMT 23:10 PST

پاکستان کی پارلیمان کی جانب سے صوبہ پنجاب میں نئے صوبوں یا صوبے کے قیام کے لیے مقرر کیے گئے پارلیمانی کمیشن کے چیئرمین سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کمیشن کی رپورٹ اور مجوزہ آئینی ترمیم کا بل باضابطہ طور پر قومی اسمبلی کی سپیکر فہمیدہ مرزا کو پیش کر دیا۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق بدھ کو قومی اسمبلی کے سیکریٹریٹ میں سپیکر قومی اسمبلی کو ان کے چیمبر میں یہ رپورٹ پیش کی گئی اور اس موقع پر کمیشن کے ارکان موجود تھے۔

کلِک ’پنجاب میں دو صوبوں کا بل پیش کریں گے‘

سینیٹر فرحت اللہ بابر نےرپورٹ پیش کرنے کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس رپورٹ میں ضرورت کے مطابق تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے اور اس کے علاوہ اس میں صوبہ پنجاب میں نئے صوبے کے قیام کے حوالے سے ایک آئینی ترمیم کا بل تجویز کیا گیا ہے۔

اس کمیشن کے ایک رکن اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے رہنماء جمشید دستی نے اتوار کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ پارلیمانی کمیشن نے جنوبی پنجاب کے علاقے پر مشتمل ایک نئے صوبے ’بہاولپور جنوبی پنجاب‘ کی تجویز کی منظوری دی ہے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے مزید بتایا کہ تجویز کردہ آئینی بل کے مسودے میں موجودہ صوبے کی سرحدوں میں رد و بدل کے بارے میں کہا گیا ہے۔ اس بل کو قومی اسمبلی اور ایوان بالا یعنی سینیٹ سے دو تہائی اکثریت سے منظوری درکار ہو گی اور دونوں ایوانوں سے آئین کے مطابق اکثریت سے منظوری کے بعد صدر مملکت کی جانب سے اس بل کی منظوری سے پہلے اسے صوبہ پنجاب کی اسمبلی کو دو تہائی اکثریت سے منظور کرنا ہو گا۔

طے کردہ قواعد کے مطابق کمیشن کو یہ رپورٹ سپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعظم کو پیش کرنا تھی اور اب سپیکر قومی اسمبلی اس پر آئندہ مناسب طور پر کارروائی کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ پارلیمان کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس رپورٹ اور آئین میں ترمیم کے مجوزہ بل میں ترمیم، تبدیلی ، مسترد یا منظور کرے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر کے مطابق پنجاب اسمبلی کو بھی اس بل کو مسترد کرنے کا حق حاصل ہے اور پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد بھی صدر مملکت اس کی منظوری نہیں دے سکتے ہیں۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اس رپورٹ اور مجوزہ آئینی ترمیم کے بل کو جنوبی پنجاب کے علاقوں کے لوگوں کی شکایات اور ایک نئے صوبے کی تشکیل کی صورت میں اس کے ازالہ کے مطالبے کو ایک طاقتور سیاسی آواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس آواز کی گونج اس وقت تک سنائی دیتی رہے گی جب تک نظر انداز کیے جانے والے علاقوں کے دبے ہوئے اور مظلوم لوگوں کا مطالبہ پورا نہیں ہو جاتا۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب میں نئے صوبے کے قیام کا سفر طویل اور پیچیدہ ہو سکتا ہے اور راستہ ناہموار ہو سکتا ہے لیکن یہ عمل ناقابل واپسی ہے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے صوبہ پنجاب میں حکمران اور وفاق میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نون کی اس کمیشن میں شرکت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ مسلم لیگ نون کے پاس اب بھی اچھا خاصا موقع ہے کہ جب یہ معاملہ بحث کےلیے پارلیمان اور صوبائی اسمبلی میں آئے تو وہ اس میں نمایاں حصہ ڈال سکتے ہیں۔

چودہ رکنی پارلیمانی کمیشن اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے اگست سال دو ہزار بارہ میں قائم کیا تھا۔ مگر پنجاب اسمبلی نے کمیشن کے لیے دو ارکان کے نام نہیں دیے تھے۔

اس کمیشن کے رکن جمشید دستی نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ کمیشن نے تجویز دی ہے کہ اس نئے صوبے سے قومی اسمبلی کی انچاس نشستوں کے ساتھ خواتین کی بارہ مخصوص نشستیں ہوں گی۔

اسی طرح سینیٹ کے لیے اس صوبے کی تئیس نشستیں اور اس صوبے کی صوبائی اسمبلی کی ایک سو چوبیس نشستیں ہوں گی جن کے ساتھ چوبیس مخصوص نشستیں خواتین کے لیے ہوں گی۔

تجویز کردہ نئے صوبے کا دارالحکومت بہاولپور ہوگا اور اس میں بہالپور، ملتان اور ڈیرہ غازی خان ڈویژن بھی شامل ہوں گے جبکہ سرگودھا ڈویژن کے دو اضلاع میانوالی اور بھکر کو بھی اس میں شامل کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔