اعلیٰ عدلیہ کی تنخواہوں، الاؤنس میں اضافہ

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 فروری 2013 ,‭ 21:32 GMT 02:32 PST

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تنخواہوں اور جوڈیشل الاؤنس میں بیس فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق صدرِ مملکت نے یہ منظوری آئین کے پانچویں شیڈول کے تحت جاری صدارتی آرڈر میں دی گئی ہے۔

صدارتی آرڈر کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی تنخواہ 448221 روپے سے بڑھا کر 537865 روپے جبکہ عدالت عظمیٰ کے ججوں کی تنخواہ 423414 سے بڑھا کر 508097 کردی گئی ہے۔

ان جسٹس صاحبان کے جوڈیشل الاؤنس کو بھی 196219 سے بڑھا کر 235463 کردیا گیا ہے۔

ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی تنخواہ 425426 سے بڑھا کر 498509 روپے جبکہ عدالت عالیہ کے ججوں کی تنخواہ 399447 سے بڑھا کر 479336 روپے کردی گئی ہے۔

اسی طرح جوڈیشنل الاؤنس بڑھا کر 188370 روپے کردیا گیا ہے۔

اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تنخواہ اور جوڈیشنل الاؤنس میں یکم جولائی 2010 سے 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ ریلیف تمام سرکاری ملازمین کو دیا گیا تھا۔

اسی طرح سرکاری ملازمین کو یکم جولائی 2011 سے ان کی بنیادی تنخواہ کا 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا گیا تھا۔ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تنخواہوں اور جوڈیشنل الاؤنس میں بھی یہ اضافہ کیا گیا ہے۔

حکومت نے سرکاری ملازمین اور مسلح افواج کے ملازمین کو ان کی بنیادی تنخواہ کا 20 فیصد ایک اور ایڈہاک ریلیف الاؤنس دیا جو اس وقت اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو نہیں دیا گیا۔

تنخواہوں میں اضافے پر اٹھنے والے اخراجات کو متعلقہ عدالتوں کے منظور شدہ بجٹ سے پورا کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔