کراچی: این جی او کے چار اہلکار اغوا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 1 فروری 2013 ,‭ 22:28 GMT 03:28 PST
فائل فوٹو

’بولان وین میں ان کے چھ ملازم معمول کے مطابق واپس آرہے تھے کہ ماڑیپور کے قریب مسلح افراد نے انہیں روک لیا‘

پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے علاقے ماڑیپور سے ایک غیر سرکاری ادارے کے چار اہلکار اغوا ہوگئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان مغویوں سمیت بلوچستان کی طرف فرار ہوگئے ہیں۔

حب ریور روڈ پر نور محمد ولیج میں کچرا چننے والے افراد کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم ’ہینڈز‘ کا گزشتہ تین سالوں سے پراجیکٹ جاری ہے۔ اس پراجیکٹ میں کچرا چننے والے افراد کو گھروں کے علاوہ، سکول اور ڈسپینسری فراہم کی گئی تھی۔

ہینڈز کے ایک اہلکار عبدالرحیم موسوی نے بتایا کہ بولان وین میں ان کے چھ ملازم شام کو چار بجے معمول کے مطابق واپس آرہے تھے کہ ماڑیپور کے قریب مسلح افراد نے انہیں روک لیا۔

حب کی جانب جاتے ہوئے مسلح افراد نے دو خواتین ورکر کو چھوڑ دیا تاہم انجنیئر امجد، ڈسپینسر خرم، رفیق اور ڈرائیور ہمایوں کو اغوا کر کے اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔

عبدالرحیم موسوی کا کہنا ہے کہ مزاحمت پر مسلح افراد نے ورکروں کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا جس کے باعث خواتین ورکر خوف زدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے قبل ان کو کوئی دھمکی موصول نہیں ہوئی تھی۔

دوسری جانب ماڑیپور تھانے پر نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان مغویوں کو بلوچستان کی طرف لے گئے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔