چیئرمین نیب کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 31 جنوری 2013 ,‭ 12:17 GMT 17:17 PST

عدالت نے چیئرمین نیب کو چار فروری کو عدالت میں پیش ہو کر جواب داخل کرانے کا حکم دیا ہے

پاکستان کی سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین ایڈمرل (ریٹائرڈ) فصیح بخاری کو توہین عدالت کے معاملے میں اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔

انہیں یہ نوٹس چند روز قبل صدرِ پاکستان کو لکھے گئے ایک خط کی بنا پر دیا گیا ہے جس میں انہوں نے عدلیہ کے کردار پر تنقید کی تھی۔

نوٹس میں چیئرمین نیب پر عدلیہ کو کمزور کرنے اور انصاف کی فراہمی میں خلل ڈالنے کے الزامات لگائے ہیں اور انہیں چار فروری کو عدالت میں پیش ہو کر جواب داخل کرانے کا حکم دیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق عدالت نے اپنے حکم میں سویلین اور فوجی قیادت سے کہا ہے کہ اس خط کو بنیاد بنا کر کوئی ایسا اقدام نہ کریں جس سے جمہوریت ڈی ریل ہو یا انتخابی عمل میں رکاوٹ کا سبب بنے۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے چیئرمین نیب کو کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کےسلسلے میں بھی توہین عدالت کا نوٹس جاری ہو چکا ہے۔

بدھ کو کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین ایڈمرل (ریٹائرڈ) فصیح بخاری کی جانب سے صدر پاکستان کو عدلیہ کے کردار پر تنقید سے متعلق لکھے گئے خط کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی اصل کاپی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ نیب کے چیئرمین نے خط کے ذریعے عدالت کے خلاف نفرت پھیلانے اور اسے بدنام کرنے کی کوشش کی ہے جس کی انہیں اجازت نہیں ہے۔

عدالت نے اس سلسلے میں سابق فوجی جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تین نومبر سنہ دو ہزار سات میں بھی ایسا کرنے کی کوشش کی گئی تھی جسے عدلیہ نے ناکام بنا دیا تھا۔

عدالت نے کہا تھا کہ خط کا متن پڑھنے کے بعد اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ خط لکھنے اور اس کی میڈیا پر تشہیر کرنے کے پیچھے کیا مقاصد ہیں۔

سپریم کورٹ میں بدھ کو اس مقدمے کی سماعت کے دوران نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا نے چیف جسٹس کو نیب کے چیئرمین کی غیر حاضری سے متعلق آگاہ کرنا چاہا تھا تو چیف جسٹس نے کہا تھا کہ آپ اسے چھوڑیں پہلے یہ بتائیے کہ آپ کے چیئرمین کی جانب سے صدر کو بھیجے گئے خط میں انہوں نے کیا لکھا ؟ جس کے جواب میں پراسیکیوٹر جنرل نے کہا تھا کہ نیب کے چیئرمین نےخط میں عدالت سے متعلق اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

عدالت نے اپنے ردعمل میں نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کو حکم دیا کہ وہ خط کی تصدیق شدہ نقل عدالت میں جمع کرائیں اور یہ بھی بتائیں کہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں اس خط کی تشہیر کیوں کی گئی؟

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔