لکی مروت ماما خیل کے رہائشیوں نے کیا دیکھا

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 2 فروری 2013 ,‭ 12:32 GMT 17:32 PST

ضلع لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ میں شہر سے دو کلومیٹر دور شمال کی جانب بنوں روڈ پر واقع ایریگیشن کی رہائشی کالونی میں بنائےگئے پاکستان فوج کے عارضی کیمپ کے قریب گاؤں ماما خیل کے ایک مقامی رہائشی منور شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ’رات چار بجے کے قریب اچانک زودار دھماکے شروع ہوئے جس سے پورے گاؤں کے لوگ نیند سے جاگ اُٹھے لیکن خوف کی وجہ سے کوئی بھی گھر سے باہر نہیں نکل سکا۔‘

کلِک لکی مروت فوجی یونٹ پر حملہ، فوجی اہلکاروں سمیت پینتیس ہلاک

منور شاہ نے بتایا کہ پہلے ایک طرف سے دھماکوں اور فائرنگ کی آوازیں سُنائی دیتی رہیں اور کچھ دیر بعد دونوں طرف سے زور دار دھماکوں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں جس میں راکٹ لانچر اور خود کار اسلحہ کا استمعال ہو رہا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جس جگہ آرمی کا عارضی کیمپ موجود ہے وہاں کوئی آبادی نہیں ہے۔ ماماخیل کا گاؤں ایک چھوٹا ساگاؤں ہے جو آرمی کیمپ سے صرف ایک کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہےآ انہوں نے کہا کہ شدت پسند پانی کےخشک نالے سے ہوتے ہوئے آرمی کیمپ تک پہنچے۔

’یہ علاقہ بالکل ہموار ہے اور یہاں کوئی پہاڑی سلسلہ نہیں ہے۔ پہاڑی سلسلہ یہاں سے تقریباً سو کلومیٹر دور ہوگا۔‘

منور شاہ نے بتایا کہ آج صُبح سے سکیورٹی فورسز کے اہلکار گاؤں کے قریب کھیتوں میں موجود تھے جن کی تعداد پچاس سے زیادہ نہیں تھی۔ انہوں نے کہا کہ کھیتوں میں وہ بارودی مواد تلاش کر رہے تھے۔

منور شاہ نے بتایا کہ اس دوران گاؤں کے لوگ اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے تھے۔ سکیورٹی فورسز کے اہلکار دوپہر واپس عارضی کیمپ میں چلے گئے اور لوگ بھی اپنے گھروں سے باہر نکل گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ علاقے کے لوگ گھروں سے تو نکل آئے ہیں لیکن خوف کی وجہ سے انہوں نے ابھی تک کھیتوں میں کام شروع نہیں کیا ہے۔

منور شاہ کے مطابق گاؤں ماما خیل میں آنے جانے والے تمام راستے بند ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن کے دوران کسی بھی مقامی شخص کو گرفتار نہیں کیا۔

انہوں نے کہا گاؤں ماما خیل میں کوئی شخص ہلاک ہوا ہے اور نہ کوئی زخمی۔ شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہونے والے عام شہری ایریکیشن کالونی کے اندر رہائش پذیر تھے۔

یاد رہے کہ اس واقع سے پہلے ضلع بنوں میں سینکڑوں شدت پسندوں نے بنوں جیل پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجہ میں تین سو کے قریب قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ آرمی کا یہ عارضی کیمپ اور بنوں جیل ایک دوسرے سے چند کلومیٹر کے فاصلے واقع ہیں۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔