کراچی سے دو خط

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 02:52 GMT 07:52 PST
بات سے بات

کراچی کی صورت حال پر دو خطوط

(دو خطوط بلا تبصرہ پیشِ خدمت ہیں۔خط بھیجنے والوں کے نام ان کی سلامتی کے خیال سے بدل دئیے گئے ہیں۔یہ خطوط آج کے کراچی کی محض ایک جھلک پیش کرتے ہیں)۔

جناب وسعت اللہ خان

میں ایک چھوٹا سا کاروباری آدمی ہوں۔کوئی چھ برس پہلے میں نے گلستانِ جوہر کے سب سے بڑے رہائشی کمپلیکس ( رابعہ سٹی ) میں اپنی فیملی کے لئے پچیس لاکھ روپے میں فلیٹ خریدا۔آج یہ فلیٹ کوئی پندرہ لاکھ روپے میں لینے کو تیار نہیں۔

چونکہ یہ بہت بڑی رہائشی سکیم ہے لہذا یہاں کے رہائشیوں نے صحت و صفائی اور نظم و نسق کے بہتر انتظام کے لیے چار بلاکوں کی چار علیحدہ علیحدہ یونینیں بنائیں۔ شروع میں یہاں ایک سیاسی تنظیم کا کنٹرول تھا اور رہائشیوں سے جو ماہانہ یونین اخراجات وصول کئے جاتے تھے ان میں سے ایک حصہ اس سیاسی تنظیم کو جاتا تھا۔ پھر ایک دن اس تنظیم کے لوگ اچانک چلے گئے اور ان کی جگہ نئے چہرے آ گئے اور یونین کے ٹیکس کی شرح بھی بڑھتی چلی گئی۔ پھر نیا گروپ بھتے کی تقسیم پر دو حصوں میں بٹ گیا اور دونوں میں اس رہائشی سکیم کے کنٹرول کی لڑائی شروع ہوگئی۔ جب حالات قابو سے باہر ہوجاتے ہیں تو پولیس اور رینجرز آپریشن کے نام پر کچھ شرارتی بچوں کے کان کھینچتے ہیں مگر دو چار دن بعد پھر وہی مسلح چہرے نمودار ہو جاتے ہیں اور انہی باوردی لوگوں کے ساتھ چائے پیتے اور خوش گپیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

ایک دن تو یہ ہوا کہ دونوں گروہوں کی لڑائی میں جب ایک مسلح گروہ کے چند لوگوں نے ایک دوکان میں پناہ لی تو کچھ دیر بعد پولیس کی بکتربند گاڑی آئی اور انہیں نکال کے لے گئی اور اگلے دن پھر یہ افراد چلتے پھرتے نظر آنے لگے۔ یہ منظر سینکڑوں لوگوں نے دیکھا لیکن آپ کسی سے گواہی کے لیے کہیں گے تو کوئی نہیں بولے گا۔ پولیس والوں سے پوچھیں تو وہ موبائل فون دکھا کر کہتے ہیں کہ بھائی جان ہمارا مائی باپ تو یہ ہے۔

مرغیوں کے ڈھائی ہزار دڑبے

"اب تو ہم اس پر بھی تیار ہیں کہ کوئی یہ رہائشی سکیم خرید کے پولیس اور رینجرز کا ہاسٹل بنا دے ، ہم کہیں بھی رھ لیں گے۔ لیکن شائد یہ بھی نا ہوسکے۔ کون چاہے گا کہ سونے کے انڈے دینے والی مرغیوں کے ڈھائی ہزار دڑبے خرید کر ان مرغیوں کو آزاد چھوڑ دے۔"

اس وقت حالت یہ ہے کہ مکینوں کی یونینوں کا نظام ختم ہوچکا ہے کیونکہ یونینیں جو ہر ماہ لگی بندھی رقم ان مسلح افراد کو دیتی تھیں اس پر بھی یہ مطمئن نہیں ہوئے اور اب اجنبی چہرے ہر فلیٹ کا دروازہ کھٹکھٹا کر خود ماہانہ رقم وصول کررہے ہیں۔ میرا اپنا اندازہ ہے کہ ڈھائی ہزار فلیٹوں اور تقریباً ایک ہزار دوکانوں سے ماہانہ کم ازکم بارہ سے پندرہ لاکھ روپیہ وصول کیا جارہا ہے۔اور یہ پولیس اور رینجرز کی گشت اور سادہ کپڑوں میں گھومنے والے اہلکاروں کے ہوتے ہوئے ہو رہا ہے۔ بڑوں سے زیادہ تکلیف بچوں کو ہے جو وقت بے وقت فائرنگ اور ہنگامے کے سبب نا تو سکول جاسکتے ہیں اور چلے بھی جائیں تو یقین نہیں ہوتا کہ بروقت سکول سے آسکیں گے۔

اب تو ہم اس پر بھی تیار ہیں کہ کوئی یہ رہائشی سکیم خرید کے پولیس اور رینجرز کا ہاسٹل بنا دے ، ہم کہیں بھی رھ لیں گے۔ لیکن شائد یہ بھی نا ہوسکے۔ کون چاہے گا کہ سونے کے انڈے دینے والی مرغیوں کے ڈھائی ہزار دڑبے خرید کر ان مرغیوں کو آزاد چھوڑ دے۔

دعاگو شعیب احمد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محترم سلام ،

آخری بوند

"لگ یوں رہا ہے کہ کسی بھی تنظیم کا جھنڈا ، نظریہ ، زبان کتنی ہی مختلف ہو ، وہ بظاہر ایک دوسرے کے کیسے ہی دشمن ہوں مگر کراچی کے جسم سے آخری بوند نچوڑنے پر سب تنظیمیں اور ادارے متحد ہو چکے ہیں"

میں فیڈرل بی ایریا کے بلاک چھ میں سے رہتا ہوں۔ میری بچی منیبہ پبلک سکول میں پڑھتی ہے۔ پچھلے مہینے کی اٹھارہ یا انیس تاریخ کو جب بچی سکول پہنچی تو دیکھا کہ تالا لگا ہوا ہے اور سینکڑوں طلبا اور اساتذہ پریشان کھڑے ہیں۔ کسی کو نہیں معلوم تھا کہ یہ تالا کیوں اور کس نے لگایا۔ بعد میں میڈیا سے پتا چلا کہ دو سال پہلے سابق صوبائی سیکرٹری ایجوکیشن کے جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن کی تعمیل میں مقامی ڈسٹرکٹ آفیسر نے یہ تالا لگایا ہے اور اب بااثر سیاسی رضامندی کے ساتھ یہ جگہ کسی نہاری والے کو دی جارہی ہے۔

طلبا اور اساتذہ نے سکول کے باہر ہی احتجاجاً فٹ پاتھ پر کلاسیں لگا لیں۔ کئی سیاسی و سماجی رہنماؤں نے یہاں کا دورہ کرکے طلبا کے جذبے کی تعریف بھی کی مگر تالا لگا رہا۔ بلاخر طلبا اور اساتذہ نے خود ہی گیارہ دن بعد تالا توڑا اور اندر جا کر دیکھا کہ سب فرنیچر غائب اور عمارت کا ایک حصہ بھی گرایا جاچکا ہے۔ اطلاع ہے کہ موجودہ سیکرٹری ایجوکیشن نے پرانا نوٹیفکیشن منسوخ کردیا ہے لیکن جن سرکاری اہلکاروں نے قبضہ مافیا کی ملی بھگت سے تالا لگایا وہ اپنی جگہ برقرار ہیں۔ ہمیں خدشہ ہے کہ قبضہ مافیا کسی نا کسی دن پھر اس سکول پر قبضہ کرے گی اوراس دفعہ یہ کام زیادہ تیاری کے ساتھ ہوگا۔

محترم ! ہم اب تک تو یہ دیکھ رہے تھے کہ شہر میں پارکنگ فیس کے نام پر جو چاہے شہریوں سے کہیں بھی کسی کا نام لے کر پیسے بٹور سکتا ہے، دوکانوں کو بھتے کی پرچی بھیج سکتا ہے، پارک اور میدان ہڑپ کرسکتا ہے۔ بنے بنائے خالی مکانوں اور فلیٹوں پر قبضہ کر سکتا ہے۔ لیکن اب شاید سکولوں کی باری بھی آ گئی ہے۔ لگ یوں رہا ہے کہ کسی بھی تنظیم کا جھنڈا ، نظریہ ، زبان کتنی ہی مختلف ہو ، وہ بظاہر ایک دوسرے کے کیسے ہی دشمن ہوں مگر کراچی کے جسم سے آخری بوند نچوڑنے پر سب تنظیمیں اور ادارے متحد ہو چکے ہیں۔

آپ کا مخلص بلاد علی

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔