’کامیاب آپریشن کے بعد ملالہ کی حالت مستحکم‘

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 23:43 GMT 04:43 PST

ملالہ یوسفزئی کی حالت مستحکم ہے: ڈاکٹر

برطانوی شہر برمنگھم میں ڈاکٹروں نے طالبان کی گولی کا نشانہ بننے والی پندرہ سالہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کے سر کا کامیاب آپریشن کیا ہے۔

اتوار کو برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس آپریشن کے بعد ملالہ کی حالت مستحکم ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پانچ گھنٹے جاری رہنے والے آپریشن کے بعد وہ ان کی حالت سے بہت خوش ہیں۔

اس آپریشن میں دس ڈاکٹروں کی ٹیم نے حصہ لیا جس میں ملالہ کی کھوپڑی کے کچھ حصے کو دوبارہ سے بنایا گیا اور ان کے کان کی بھی جراحی کی گئی ہے۔

ہسپتال نے کہا کہ ہفتے کے روز ملالہ کے دو آپریشن ہوئے جن کے دوران ان کے سر میں ٹائٹینیئم دھات کی پلیٹ رکھی گئی اور کان میں ایک الیکٹرانک آلہ نصب کیا گیا۔

کوئین الزبتھ ہسپتال کی ترجمان خاتون نے کہا ہے کہ ملالہ کی سرجری کرنے والی ٹیم ان کی حالت سے بہت خوش ہے: ’دونوں آپریشن کامیاب رہے اور ملالہ اب ہسپتال میں صحت یاب ہو رہی ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا، ’ملالہ کی حالت مستحکم ہے اور ان کی میڈیکل ٹیم بہت خوش ہے۔ انھوں نے عملے اور اپنے خاندان کے افراد سے بات کی ہے۔‘

ملالہ کو گذشتہ سال نو اکتوبر کو طالبان نے سوات کے شہر مینگورہ میں قریب سے گولی کا نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے کے بعد دنیا بھر میں ملالہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا تھا۔

"گولی ملالہ کے دماغ کو صرف چھو کر گزری اور ان کے سر سے ہو کر گردن کے راستے ان کے بائیں شانے میں جا گھسی تھی۔"

برطانوی ڈاکٹر

جمعہ کو ناروے کی پارلیمان نے ملالہ کو امن کے نوبیل انعام کے لیے بھی نامزد کیا ہے۔

بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں ڈاکٹروں نے ملالہ کے آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے سر میں ٹائٹینیئم کی خاص طور پر بنائی گئی پلیٹ نصب کی جائے گی تاکہ ان کے سر میں گولی کی وجہ سے جو سوراخ بن گیا تھا اسے ڈھک دیا جائے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گولی ملالہ کے دماغ کو صرف چھو کر گزری اور ان کے سر سے ہو کر گردن کے راستے ان کے بائیں شانے میں جا گھسی۔

اس حملے کے وجہ سے ان کا بایاں کان مکمل طور پر بہرا ہو گیا ہے، اور سرجنوں نے کہا تھا کہ ان کے کان کے اندر مشینی آلہ نصب کیا جائے گا جس سے ان کی سماعت ڈیڑھ سال کے اندر اندر مکمل طور پر نارمل ہو سکتی ہے۔

ملالہ کو چار جنوری کو ہسپتال سے عارضی طور پر فارغ کر دیا گیا تھا اور وہ اپنے والدین اور بہن بھائیوں کے ساتھ برمنگھم میں رہتی ہیں۔ ان کے والد کو پاکستانی حکومت نے تین سال کے لیے تعلیمی اتاشی کا ملازمت دے رکھی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔