پاکستان، افغانستان، برطانیہ سہ فریقی مذاکرات

آخری وقت اشاعت:  اتوار 3 فروری 2013 ,‭ 08:03 GMT 13:03 PST

اس سے پہلے گذشتہ سال جولائی میں کابل میں اور ستمبر میں نیو یارک میں سہ فریقی اجلاس ہوئے تھے

پاکستان، افغانستان اور برطانیہ کے سربراہان افغانستان میں قیامِ امن کے لیے لندن میں اتوار کو شروع ہونے والے تیسرے سہ فریقی اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔

گزشتہ سال کے موسمِ گرما کے بعد یہ تیسرا موقع ہے کہ تینوں ممالک ان مذاکرات میں شرکت کر رہے ہیں جن کا مقصد خطے میں توازن پیدا کرنا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان افغانستان کی فوج اور انٹیلیجنس کے سربراہان بھی اس اجلاس میں شرکت کریں گے۔

یاد رہے کہ دو ہزار چودہ میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلاء ہوگا جس کے بعد کے لیے مختلف سطح پر مذاکرات کا عمل جاری ہے۔

اس سہ فریقی مذاکرات کے عمل کا آغاز برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کیا تھا جس کا مقصد غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد کے افغانستان میں تینوں ممالک کے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار تھا۔

برطانوی وزیر اعظم پاکستان اور افغانستان کے صدور کے اعزاز میں اپنی رہائش گاہ چیکرز پر اتوار کی رات کو عشائیہ بھی دیں گے۔

"سہ فریقی مذاکرات طالبان کو ایک واضح پیغام بھجواتے ہیں کہ اب ہر ایک لیے افغانستان میں پر امن سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لیے مذاکرات میں شرکت کا مناسب موقع ہے۔"

ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ

سوموار کو تینوں سربراہان اپنے اپنے اہم اہلکاروں کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کے عمل کا آغاز کریں گے۔

برطانوی وزیر اعظم کی رہائش گاہ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ سے جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’سہ فریقی مذاکرات طالبان کو ایک واضح پیغام بھجواتے ہیں کہ اب ہر ایک لیے افغانستان میں پر امن سیاسی عمل میں حصہ لینے کے لیے مذاکرات میں شرکت کا مناسب موقع ہے‘۔

اس کے ساتھ تینوں سربراہانِ مملکت افغانستان میں امن و استحکام کے لیے جاری کوششوں اور طریقۂ کار کا جائزہ بھی لیں گے۔

برطانوی وزیر اعظم کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’توقع ہے کہ افغانستان میں افغانیوں کی جانب سے شروع کی گئی قیامِ امن کی کوششوں اور پاکستان اور بین الاقوامی برادری کی طرف سے اس کی حمایت پر بات چیت ہو گی۔ ہمیں پاکستان اور افغانستان سے امید ہے کہ دونوں ممالک گذ شتہ نومبر میں کیے گئے سٹریٹیجک پارٹنرشپ معاہدے میں بھی پیش رفت کریں گے۔‘

پاکستانی صدر آصف علی زرداری اور افغان صدر حامد کرزئی اس سہ فریقی اجلاس میں شرکت کے لیے لندن پہنچ گئے ہیں۔

بداعتمادی پر قابو پانا

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق ان مذاکرات میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان بد اعتمادی کی فضا کا خاتمہ ایک اہم مسئلہ رہے گا۔

افغان حکومت نے اپنی جانب سے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ پاکستان کی جانب سے بہت سے طالبان جنگجوؤں کی رہائی کو ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھتے ہیں۔

لیکن افغان حکام ملا برادر کی رہائی چاہتے ہیں جو کہ افغان طالبان کے سابق نمبر دو کمانڈر رہے ہیں جس سے افغان حکام کو امید ہے ان کی سطح کے ایک اعلیٰ طالبان اہلکار کی مدد سے طالبان کو کابل میں جاری مذاکرات میں شریک کرنے میں مدد ملے گی۔

"نہ ہی کمیونسٹ حکومت اور نہ مجاہدین افغانستان کو امن اور تحفظ فراہم کر سکے اگر ہم اپنے امن عمل کا خود انتظام نہیں کرتے جیسا کہ ہم نے ماضی میں کی تو پھر ہم کبھی بھی استحکام حاصل نہیں کر پائیں گے۔"

افغان صدر حامد کرزئی

افغان صدر کرزئی نے بی بی سی پشتو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ افغان عوام کو امن کے عمل کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہیے اور انہوں نے کہا کہ ’نہ ہی کمیونسٹ حکومت اور نہ مجاہدین افغانستان کو امن اور تحفظ فراہم کر سکے اگر ہم اپنے امن عمل کا خود انتظام نہیں کرتے جیسا کہ ہم نے ماضی میں کی تو پھر ہم کبھی بھی استحکام حاصل نہیں کر پائیں گے‘۔

واضح رہے کہ یہ تیسرا سہ فریقی اجلاس ہے۔ اس سے پہلے گذشتہ سال جولائی میں کابل میں اور ستمبر میں نیو یارک میں سہ فریقی اجلاس منعقد کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے افغانستان اور پاکستان کی فوجی قیادت نے افغانستان سے اتحادی افواج کے انخلا کو ’پر امن اور تشدد سے پاک‘ رکھنے کے لیے بعض اہم نکات پر اتفاق کیا تھا۔

یہ اتفاق دونوں ملکوں کی فوجی قیادت کے درمیان اعلیٰ سطح کے جامع اور سٹریٹیجک مذاکرات کے دوران حاصل کیا گیا تھا جو جنوری کے اخری ہفتے میں پاکستانی فوج کے صدر دفتر (جی ایچ کیو) میں ہوئے تھے۔

ان مذاکرات سے واقف ایک سینئر فوجی افسر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ دونوں وفود کے درمیان امریکی انخلا کے پس منظر میں بعض بنیادی نوعیت کے معاملات پر بات چیت ہوئی تھی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ان مذاکرات میں امریکی انخلا کے بعد پاک افغان سرحد پر دونوں ملکوں کے مشترکہ کنٹرول، دونوں ملکوں کے سرحدی محافظوں کے درمیان مضبوط روابط، افغان امن عمل میں پاکستانی کردار، دونوں ملکوں کے درمیان فوجی تربیت کے معاہدے اور سرحدی علاقوں میں سماجی اور معاشی ترقی کے معاملات شامل تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔