الیکشن کمیشن کے حق میں قرارداد

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 15:59 GMT 20:59 PST
احتجاج

الیکشن کمیشن کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے آج پارلیمان کے سامنے بارش اور سردی کے باوجود بھی احتجاج کیا گیا

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اپیل پر الیکشن کمیشن کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے پیر کو پارلیمان کے سامنے بارش اور سردی کے باوجود بھی احتجاج کیاگیا۔

اس موقع پر چوہدری نثار علی خان سمیت بعض رہنماؤں نےخطاب کیا اور اتفاق رائے سے ایک قرارداد بھی منظور کی گئی جس میں الیکشن کمیشن کو آزاد اور آئینی ادارہ قرار دیتے ہوئے اس کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔

جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ نے قرارداد پڑھتے ہوئے مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے بارے میں سپریم کورٹ کے حکم پر فوری عمل کرے اور کراچی میں فوج کی مدد سے گھر گھر جا کر ووٹر فہرستوں کی تصدیق مکمل کی جائے۔

قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن تمام گورنروں کو ہدایت جاری کرے کہ جیسے ہی نگراں حکومتیں قائم ہوں تو وہ مستعفی ہوجائیں اور نئے گورنر مقرر کیے جائیں۔

یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ سندھ اور بلوچستان کی اسمبلیوں میں فوری طور پر قائد حزب مخالف مقرر کریں تاکہ وہ نگران حکومتوں کے عمل میں شریک ہوسکیں۔

قرارداد میں کہا گیا کہ تمام صوبوں کے چیف سیکرٹری، سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری اطلاعات، سیکرٹری خزانہ اور سیکرٹری اسٹیبلشمینٹ اور دیگر محکموں کے سیکرٹری تبدیل کیے جائیں۔

"نواز لیگ کے رہنما سید ظفر علی شاہ سےجب پوچھا گیا کہ ایک درجن سے زائد جماعتوں کی شرکت کے باوجود بھی شرکاء کی تعداد چند سو کیوں ہے تو انہوں نے کہا کہ ’یہ علامتی احتجاج ہے ۔۔ہم نے بیس لاکھ لوگ نہیں بلائے۔‘"

اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے ایک سرکردہ رہنما سید ظفر علی شاہ نے بی بی سی کے نامہ نگار اعجاز مہر سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ الیکشن کمیشن توڑنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کا مقصد آزاد اور آئینی الیکشن کمیشن کو متنازع بنانا اور انتخابات میں رکاوٹ ڈالنا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چاروں صوبوں سے سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتوں سے سینکڑوں لوگ احتجاج میں شریک ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ایک درجن سے زائد جماعتوں کی شرکت کے باوجود بھی شرکاء کی تعداد چند سو کیوں ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ’یہ علامتی احتجاج ہے۔ہم نے بیس لاکھ لوگ نہیں بلائے‘۔

احتجاج میں سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے کچھ کارکنوں نے اپنے پرچم کے رنگ کی ٹوپیاں پہن رکھی تھیں اور پنجابی زبان بول رہے تھے۔ جب ان میں سے دو کارکنوں سے بات کی اور پوچھا کہ ان کا تعلق کہاں سے ہے اور سندھ کی جماعت سے ان کا کیا تعلق ہے تو وہ مسکرا کر آگے چلے گئے۔

احتجاج میں شریک خواتین ’گو زرداری گو۔۔۔ اکیلے بیٹھ کہ رو زرداری رو ‘ ۔۔۔ بلاول کے کپڑے دھو زرداری دھو ‘ کے نعرے بھی لگاتے رہے۔ جبکہ کچھ یہ نعرہ بھی لگاتے رہے کہ ’گیس چوروں بجلی چوروں اب تو ہمارا پیچھا چھوڑو‘۔

بارش اور سردی کی وجہ سے کارروائی مختصر رکھی گئی اور احتجاج میں شامل جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل وفد نے الیکشن کمیشن تک مارچ کیا اور الیکشن کمیشن کو اپنی متفقہ منظور کردہ قرارداد کی کاپی پیش کی۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔