نیٹو کنٹینرز :ہڑتال ختم، روانگی منگل سے

آخری وقت اشاعت:  پير 4 فروری 2013 ,‭ 17:27 GMT 22:27 PST
فائل فوٹو

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے مطابق ہڑتال کے علاوہ کہ مطالبات منوانے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا (فائل فوٹو)

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں مال بردار گاڑیوں کے مالکان کی جانب سے کی جانے والی ہڑتال حکومت سے کامیاب مذاکرت کے بعد ختم کردی گئی ہے۔ اس کے بعد اب امکان ہے کہ منگل سے افغان ٹرانزٹ اور افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے کنٹینرز کی روانگی بحال ہوجائے گی۔

افغانستان میں تعینات نیٹو افواج اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز کراچی سے روانہ ہوتے ہیں لیکن کنٹینرز کی یہ ترسیل کچھ عرصے سے تعطل کا شکار رہی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ٹرکوں کے مالکان اپنے مطالبات منوانے کے لیے حکومت پر دباؤ ڈال رہے تھے۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے سربراہ حاجی دل خان نیازی کا کہنا ہے کہ مطالبات منوانے کا اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ مطالبات منوانے کے لیے ان کی ہڑتال ایک ماہ سے جاری تھی جس کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو افواج کو سامان کی ترسیل معطل رہی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور ایف بی آر سے ان کے مذاکرت کامیاب ہوگئے ہیں اور ان کی ایسوسی ایشن نے اتوار کو ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

"افغانستان میں تعینات نیٹو افواج اور افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے کنٹینرز کراچی سے روانہ ہوتے ہیں لیکن کنٹینرز کی یہ ترسیل کچھ عرصے سے تعطل کا شکار رہی"

ان کے بقول ترسیل اب تک بحال نہیں ہوسکی ہے کیونکہ ٹرکوں کی مقامی ایسوسی ایشن بھی گزشتہ تین روز سے اپنے مطالبات منوانے کے لیے ہڑتال پر ہے اور کراچی اور بن قاسم کی بندرگاہوں سے مال باہر نہیں آرہا ہے۔

لیکن نیٹو اور افغان ٹرانزٹ کا بیش بہا سامان تو پورٹ سے باہر گوداموں میں بھی موجود ہے وہ کنٹینرز میں کیوں لوڈ نہیں کیا جا رہا؟ اس سوال کے جواب میں حاجی دل خان نیازی نے کہا کراچی میں ہفتہ اور اتوار کو لوڈنگ نہیں ہوتی جبکہ پیر کو موسم کی خرابی اور بارش کے باعث لوڈنگ میں تاخیر کی گئی ہے۔

مطالبات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مطالبہ بانڈڈ کیریئر کا خاتمہ تھا جس کے تحت حکومت نے چند افراد کو لائسنس دے دیے تھے جو افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور نیٹو کنٹینرز کو اپنے ہاں رجسٹر کرتے تھے اور رجسٹریشن کے بغیر ٹرک نہیں جا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرک مالکان اپنی مرضی سے اپنے ٹرک نہیں چلا سکتے تھے جو ناانصافی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ نظام تو ختم نہیں ہوا لیکن اب اسے کھول دیا گیا ہے جبکہ دیگر نوے فیصد مطالبات بھی تسلیم کر لیے گئے ہیں جس کے بعد ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ہڑتال ختم ہو چکی ہے اور مال بردار کنٹینرز کی ترسیل منگل سے شروع ہونے کا قوی امکان ہے جبکہ مقامی ٹرک ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے باعث کراچی اور بن قاسم بندرگاہوں سے سامان باہر آنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔