وزیرستان میں ڈرون حملہ، ایک غیرملکی ہلاک

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 فروری 2013 ,‭ 13:03 GMT 18:03 PST

نئے سال کے آغاز سے ہی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون طیاروں کے میزائل حملوں میں ایک غیر ملکی شدت پسند ہلاک ہوگیا ہے۔

مقامی انتظامیہ کے مطابق یہ حملہ بدھ کو صدر مقام میران شاہ سے پچیس کلومیٹر دور افغان سرحد کے قریب تحصیل غلام خان میں ہوا۔

انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ بنگی درہ گوربز میں ایک مکان کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا جس سے وہ تباہ ہوگیا۔

اہلکار کے مطابق حملے سے مکان میں موجود ایک شدت پسند ہلاک ہوگیا جو کہ غیر ملکی تھا، تاہم اس کی قومیت کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکا۔

اہلکار نے یہ بھی بتایا کہ حملے کا نشانہ بننے والا مکان کافی عرصے سے شدت پسندوں کے زیرِ استعمال تھا۔

خیال رہے کہ نئے سال کے آغاز سے ہی پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں میں تیزی دیکھی گئی ہے اور سال کے ابتدائی چند ہفتوں میں ہی چھ سے زائد حملے ہو چکے ہیں۔

پاکستان ان ڈرون حملوں پر امریکہ سے کئی بار باضابطہ طور پر احتجاج کر چکا ہے اور گذشتہ روز بھی امریکہ میں پاکستان کی سفیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان کی سرزمین پر امریکی ڈرون حملے بین الاقوامی قوانین کی خلاف وزری ہیں اور اگر امریکہ نے یہ حملے بند نہ کیے تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں میں تعاون بند کر سکتا ہے۔

امریکہ کہتا ہے کہ ڈرون حملے شدت پسندوں کے خلاف جنگ میں موثر ہتھیار ثابت ہو رہے ہیں اور ان کا قانونی اور اخلاقی جواز موجود ہے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔