’حکومتی اعتراض کے باوجود بھرتیوں پر پابندی برقرار رہے گی‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 فروری 2013 ,‭ 11:35 GMT 16:35 PST

سندھ کے صوبائی الیکشن کمشنر نے بھرتیوں پر پابندی کی مخالفت کی

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے حکومتی اعتراضات کے باوجود سرکاری محکمہ جات میں بھرتیوں پر عائد پابندی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ فیصلہ بدھ کو سرکاری محکموں میں ملازمتوں پر پابندی کے فیصلے پر حکومت کے اعتراضات، ٹیکس نادہندگان اور جرائم میں ملوث افراد کے الیکشن میں حصہ لینے سے متعلق معاملات پر غور کے لیے اسلام آباد میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کیا گیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں آئندہ عام انتخابات میں کاغذاتِ نامزدگی میں ٹیکس کی ادائیگی کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کے ایڈیشنل سیکریٹری افضل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کو ہونے والے اجلاس میں سرکاری نوکریوں پر بھرتی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کثرت رائے سے کیا گیا۔

سندھ کے صوبائی الیکشن کمشنر نے بھرتیوں پر پابندی کی مخالفت کی اور کہا کہ حکومت نے ابھی تک اپنی مدت پوری نہیں کی اس لیے وہ اپنے دور میں بھرتیوں کا اعلان کر سکتی ہے۔

الیکشن کمیشن کے اہلکار کے مطابق اس اجلاس میں دیگر تین صوبوں کے الیکشن کمشنرز نے نوکریوں پر پابندی کی حمایت کی اور کہا کہ جب موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرنے جاری ہے تو اس موقع پر بھرتیاں الیکشن سے قبل دھاندلی کے زمرے میں آتا ہے۔

"ماضی میں عام انتخابات کے اعلان کے بعد ہی سرکاری بھرتیوں پر پابندی عائد کی جاتی تھی لیکن ملکی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ موجودہ حکومت نے ابھی تک انتخابات کی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا لیکن الیکشن کمیشن نے اس ے پہلے ہی وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ماتحت اداروں میں بھرتیوں پر پابندی عائد کردی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔"

شہزاد ملک، بی بی سی اردو

الیکشن کمیشن نے مختلف سرکاری اداروں میں بھرتیوں کا نوٹس لیتے ہوئے اس عمل پر پابندی عائد کردی تھی جس پر وفاقی حکومت نے چیف الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

اسی سلسلے میں وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کی سربراہی میں ایک وفد نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس ریٹائرڈ فخرالدین جی ابراہیم سے ملاقات بھی کی تھی۔

الیکشن کمیشن کے اجلاس میں وفاقی ٹیکس محتسب کے سیکریٹری کی جانب سے لکھے گئے خط پر بھی غور کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ گُزشتہ مالی سال کے دوران ساٹھ فیصد سے زائد ارکان پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان نے ٹیکس اور گوشوارے جمع نہیں کروائے۔

اجلاس میں تجویز دی گئی کہ عام انتخابات میں کاغذاتِ نامزدگی میں ٹیکس کی ادائیگی کے بارے میں بھی ایک خانے کا اضافہ کیا جائے۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ الیکشن کمیشن ٹیکس کی ادائیگی اور مختلف بینکوں سے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی، معاف کروانے یا اُس کی ادائیگی نہ کرنے کے بارے میں تفصیلات طلب کرے گا اور ایسے افراد کے بارے میں فیصلہ کیا جائے گا جنہوں نے قرضے تو حاصل کیے لیکن اُنہیں ادا نہیں کیا۔

بھرتی پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کثرت رائے سے کیا گیا: افضل خان

یاد رہے کہ بائیس جنوری کو الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 218 کے سب آرٹیکل 3 اور آرٹیکل 220، الیکشن کمیشن آرڈر 2002 کے آرٹیکل 6 اور عوامی نمائندگی ایکٹ 1976 کے تحت وزارتوں وفاقی اور صوبائی محکموں میں بھرتیوں پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔

اس کے علاوہ الیکشن کمیشن نے ملک میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی منتقلی پر بھی پابندی عائد کی تھی تاہم ہمارے نامہ نگار کے مطابق محمد افضل خان کا کہنا تھا کہ اس پابندی کا اطلاق بھاشا ڈیم سمیت اہم ملکی منصوبوں پر نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔