کراچی: ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جمعہ کو ہڑتال کا اعلان

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 22:16 GMT 03:16 PST

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں وفاق المدارس اور مذہبی جماعتوں نے ایک اجلاس میں علماء کرام اور دیگر افراد کو ہلاک کرنے کے خلاف جمعہ کو ہڑتال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ اجلاس وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے صدر مولانا سلیم اللہ خان کی صدارت میں بدھ کو جامعہ بنوری ٹاؤن میں منعقد ہوا۔

ہمارے نمائندے کے مطابق اجلاس میں مفتی محمد تقی عثمانی، مفتی محمد زرولی خان، مولانا حکیم محمد مظہر اور دیگر علماء نے شرکت کی۔

اجلاس کے بعد جامعہ بنوری ٹاؤن کے مہتمم ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا اورنگزیب فاروقی اور قاری محمد عثمان نے مشتر کہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

واضح رہے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن میں پریس کانفرنس معمول نہیں ہے۔

کراچی میں شارع فیصل پر حال ہی میں جامعہ بنوری ٹاؤن دارالافتاء کے رئیس مفتی عبدالمجید دینپوری کو ان کے دو ساتھیوں سمیت گولیاں مار کر ہلک کردیا گیا تھا۔

اجلاس میں کراچی میں بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، لوٹ مار، بھتہ خوری، پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ حکومت عام شہری، دینی مدارس کے طلباء اور علماء کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ میں ناکام ہوگئی ہے۔

" حکومت شہریوں، طلباء اور علماء کے قاتلوں کو فی الفورگرفتار کرکے انہیں عبرتناک سزا دے بصورت دیگر کسی اور ایسے ہی واقعہ کے بعد درس و تدریس کا کام مدارس کے بجائے احتجاجاً سڑکوں پر کیا جائے گا۔"

قاری محمد عثمان

قاری محمد عثمان نے اجلاس کے بعد اعلامیہ سناتے ہوئے کہا کہ پہلے مرحلے میں جمعہ آٹھ فروری کو کراچی میں پرامن ہڑتال کا اعلان کیا جاتا ہے۔

ان کے بقول حکومت شہریوں، طلباء اور علماء کے قاتلوں کو فی الفورگرفتار کرکے انہیں عبرتناک سزا دے بصورت دیگر کسی اور ایسے ہی واقعہ کے بعد درس و تدریس کا کام مدارس کے بجائے احتجاجاً سڑکوں پر کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں سپریم کورٹ سے اپیل کی گئی ہے کہ جس طرح وہ مختلف حساس معاملات پر ازخود نوٹس لیتی رہی ہے وہیں دینی مدارس کے علماء اور طلباء کے قتل کا ازخود نوٹس لے کر ملک کی بڑی اکثریت کے جذبات کا احساس کرے تاکہ علماء اور طلباء کے لواحقین انصاف کے حصول کے لیے ازخود اقدام پر مجبور نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ پورے ملک کے علماء اور مشائخ نے مسلح جدوجہد اور فرقہ واریت سے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کیا ہے بلکہ اسے ایک ناپسندیدہ عمل اور ملک کی بقاء و استحکام کے خلاف غیروں کی گہری سازش قرار دیکر اس سے نفرت اور بیزاری کا اظہار کیا ہے۔

اجلاس کا مطالبہ

اجلاس نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلٰی اور گورنر سندھ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری مستعفی ہوجائیں یا وفاقی حکومت انہیں برطرف کر کے گورنر راج نافذ کرے تاکہ کراچی کا امن بحال ہوسکے۔

قاری عثمان نے کہا کہ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلٰی اور گورنر سندھ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری مستعفی ہوجائیں یا وفاقی حکومت انہیں برطرف کر کے گورنر راج نافذ کرے تاکہ کراچی کا امن بحال ہوسکے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں مفتی محمد تقی عثمانی کی تجویز پر متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ دیوبند مسلک سے تعلق کرنے والی تمام سیاسی اور دینی جماعتیں اور علماء و طلباء اپنے تحفظ و دفاع اور اپنے شہداء کے قاتلوں کے تعاقب اور ان کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے متفقہ دفاعی فورم تشکیل دیں گے۔

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کافی عرصے سے جاری ہیں اور اس میں سیاسی جماعتوں کے علاوہ مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔