’سیربین‘ اب ٹی وی پر

بی بی سی کی عالمی سروس بی بی سی اردو کا پہلا ٹی وی پروگرام ’سیربین‘ گیارہ فروری سے شروع کر رہی ہے جو پاکستان میں ایکسپریس نیوز پر نشر کیا جائے گا۔

یہ ٹی وی پروگرام ہفتے میں تین دن یعنی پیر، بدھ اور جمعے کو پاکستان کے مقامی وقت کے مطابق رات گیارہ بجے نشر ہوگا۔

بی بی سی اردو کا نمائندہ ریڈیو پروگرام ’سیربین‘پاکستان بھر میں مقبول عام ہے اور اسی پروگرام کی کامیابی کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ نیا ٹی وی پروگرام بھی اسی نام سے ہی پیش کیا جا رہا ہے اور ناموں کا یہ تسلسل پاکستان میں ناظرین سے بی بی سی کے تعلق کو مزید مضبوط کرتا ہے۔

’سیربین‘ بی بی سی کے عالمی خبررساں نیٹ ورک سے استفادہ کرے گا جو اعتماد، مناسبت اور رسائی کے لحاظ سے دنیا میں اپنی مثال آپ ہے۔

بی بی سی اردو اس خطے میں انیس سو چالیس سے اپنی نشریات پیش کر رہی ہے اور اب ’سیربین‘ کے ذریعے پاکستان کے ٹی وی ناظرین کو بی بی سی کی بہترین صحافت اور وہ تجزیے اور انٹرویو دیکھنے کا موقع ملے گا جنہیں خبروں کے عالمی صورتِ حال کے تناظر میں تیار کیا جاتا ہے۔

اس پروگرام میں پاکستان میں ثقافتی پروگراموں اور سوشل میڈیا کے رجحانات کے علاوہ کاروبار اور معیشت کا بھی ذکر ہوگا۔

بی بی سی اردو کے ٹی وی کی دنیا میں قدم رکھنے پر سروس کے مدیر عامر احمد خان کا کہنا ہے کہ ’میں آنے والے وقت کے بارے میں بہت پرجوش ہوں جو کہ ٹی وی جیسے انتہائی تیزی سے بڑھتے ہوئے میڈیا پلیٹ فارم پر اس خطے کی کہانی کی پیشکش جیسے چیلنج سامنے لا رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ انہیں ناظرین کی بی بی سی سے توقعات کا ادراک ہے اور وہ ان نوجوان اور نئے ناظرین سے ربط قائم کرنے کے لیے پرجوش ہیں جو بی بی سی اردو کے ٹی وی پروگرام کے بےچینی سے منتظر ہیں۔

اس سلسلے میں حالاتِ حاضرہ کے لیے ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹر مظہر عباس کا کہنا ہے کہ ’برسوں تک پاکستان کے لاکھوں عوام بی بی سی اردو ریڈیو پر سیربین سنتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔ ہم منتظر ہیں کہ نئی نسل اب بی بی سی اردو کے اس نئے پروگرام کو ایکسپریس کے ناظرین کے لیے لازمی بنا دے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’اپنے چینل پر سیربین نشر کر کے ہم پاکستانی عوام کے لیے کچھ ایسا پیش کر رہے ہیں جو کہ فی الوقت پاکستانی ٹی وی پر میسر نہیں اور وہ چیز قومی اور عالمی امور پر بی بی سی کے ماہرین کے غیرجانبدارانہ اور عمیق تجزیے ہیں۔