خفیہ اداروں کے فنڈز کا غلط استعمال ہوا ہے: سپریم کورٹ

آخری وقت اشاعت:  بدھ 6 فروری 2013 ,‭ 14:27 GMT 19:27 PST

خفیہ ادارے پوری دنیا سے تو معلومات چھپا سکتے ہیں لیکن عدالت عظمیٰ سے نہیں: چیف جسٹس

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اُن کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سویلین خفیہ ادارے انٹیلی جنس بیورو کے خفیہ فنڈز سے نکالے گئے کروڑوں روپے کا غلط استعمال ہوا ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ خفیہ ادارے پوری دنیا سے تو معلومات چھپا سکتے ہیں لیکن عدالت عظمیٰ سے نہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سنہ 2009 میں مبینہ طور پر پنجاب حکومت کے گرانے کے لیے انٹیلی جنس بیورو کے خفیہ فنڈز سے 29 کروڑ روپے نکلوانے سے متعلق شائع ہونے والی خبر پر لیے گئے از خود نوٹس کی سماعت کی۔

آئی بی یعنی انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ طارق لودھی نے ادارے کے اکاؤنٹ سے 40 کروڑ روپے نکلوانے کے بارے میں سپریم کورٹ کو اپنے جواب میں آگاہ کیا ہے تاہم اُنہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ کہ رقم سنہ 2009 میں پنجاب حکومت کو گرانے کے لیے استعمال نہیں ہوئی تھی۔

عدالت نے طارق لودھی کو حکم دیا کہ اس از خود نوٹس کی مد میں سپریم کورٹ نے گُذشتہ سماعت کے دوران جو حلم جاری کیا تھا اُس کی روشنی میں جواب داخل کروایا جائے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس رپورٹ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس رقم کا غلط استعمال ہوا ہے۔ عدالت نے آئی بی کے سابق سربراہ کو دو روز میں جواب داخل کروانے کا حکم دیا۔

عدالت نے ٹیکس محتسب اور آئی بی کے سابق سربراہ ڈاکٹر شعیب سڈل کو بھی اس ضمن میں تفصلی جواب جمع کروانے کا حکم دیا۔

"سابق فوجی صدر ضیاء الحق کے دور میں آئی بی کو ناکارہ بنا دیا گیا تھا تاہم اُن کے جانے کے بعد اس ادارے کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے مزید فنڈز جاری کیے گئے۔"

انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ مسعود شریف خٹک

اٹارنی جنرل عرفان قادر نے عدالت کو بتایا کہ اس رقم کی تفصیلات کے بارے میں عدالت کو آگاہ کرنے سے پہلے دیگر معاملات کو بھی دیکھنا پڑے گا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تمام اعتراضات اور وجوہات تحریری شکل میں دیے جائیں۔

انٹیلی جنس بیورو کے سابق سربراہ مسعود شریف خٹک نے عدالت کو بتایا کہ جب تک اُنہیں اس ادارے کے فنڈز کی تفصلیات کے بارے میں رسائی نہیں دی جاتی اُس وقت تک وہ اس بارے میں اپنا حتمی جواب عدالت میں جمع نہیں کروا سکتے۔

اُنہوں نے کہا کہ سابق فوجی صدر ضیاء الحق کے دور میں آئی بی کو ناکارہ بنا دیا گیا تھا تاہم اُن کے جانے کے بعد اس ادارے کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے مزید فنڈز جاری کیے گئے۔

اس از خود نوٹس کی سماعت آٹھ فروری تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔