الیکشن کمیشن: آئینی حیثیت اور حقیقت

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 7 فروری 2013 ,‭ 17:36 GMT 22:36 PST

ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان الیکشن کمیشن کے بارے میں اعتراض کرنے والوں میں سرِفہرست ہیں

پاکستان میں پہلی بار حکومت اور اپوزیشن کے اتفاق رائے سے قائم ہونے والا الیکشن کمیشن آج کل کچھ حلقوں کی جانب سے تنقید کی زد میں ہے اور اس کی آئینی حیثیت کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان الیکشن کمیشن کے بارے میں اعتراض کرنے والوں میں سرِفہرست ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ ان کی مشاورت سے الیکشن کمیشن کی از سر نو تشکیل کی جائے۔

البتہ پاکستان کی سیاست میں گزشتہ تین دہائیوں سے سرگرم ملک کی سرکردہ سیاسی، مذہبی اور قوم پرست جماعتیں موجودہ الیکشن کمیشن کی تشکیل پر متفق ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ بھی اب کمیشن کے بارے میں اعتراض کر رہے ہیں اصل میں وہ انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

طاہر القادری نے پہلے تو اعتراض کیا کہ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم اچھے آدمی ہیں لیکن وہ عمر رسیدہ ہیں اور اس عہدے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ جس پر وزیر اطلاعات قمرالزمان کائرہ نے انہیں مخاطب کر کے کہا کہ ’کیا چیف الیکشن کمشنر نے کوئی کشتی لڑنی ہے کہ اس عہدے پر بھولو پہلوان لگایا جائے؟‘

اس کے بعد طاہر القادری نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے باقی چار اراکین پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے ‘مک مکا’ کے ذریعے تعینات کیے ہیں اور آئینی طریقۂ کار پر عمل نہیں کیا گیا۔

اس بارے میں پارلیمانی کمیٹی جس نے الیکشن کمیشن کے چاروں اراکین کی نامزدگی کی اس کے ایک رکن اور عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئینی طریقۂ کار پر عمل ہوا ہے۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ جب معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں آیا تو مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے علاوہ حکومتی اور اپوزیشن کے اتحاد میں شامل جماعتوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے چاروں اراکین کی نامزدگی میں ان سے مشاورت نہیں کی گئی اور چھوٹی جماعتوں نے جو نام پیش کیے انہیں زیرِ غور نہیں لایا گیا۔

حاجی عدیل نے مزید کہا، ’پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) چونکہ دو بڑی جماعتیں ہیں ان میں طے پایا کہ سندھ اور خیبر پختونخوا کے نمائندے وہ نامزد کریں گے، جبکہ پنجاب اور بلوچستان سے نامزدگی مسلم لیگ (ن) کرے گی تو دیگر جماعتوں نے اس کی حمایت کی اور معاملہ اتفاق رائے سے طے پایا۔‘

پنجاب:

ریاض کیانی لاہور ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہیں اور وہ ڈیرہ غازی کے علاقے فورٹ منرو میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ڈومیسائل لاہور سے حاصل کیا اور وکالت شروع کی۔ وہ ڈپٹی اٹارنی جنرل اور وفاقی وزارتِ قانون کے سیکریٹری اور لاہور ہائی کورٹ کے جج بھی رہے۔

پانچ نومبر 1996 کو جب پیپلز پارٹی کی حکومت ختم ہوئی تو اس وقت کے صدر فاروق لغاری نے انہیں اہم سرکاری عہدے پر تعینات کیا اور بعد میں میاں نواز شریف کی حکومت ہو یا جنرل پرویز مشرف ان کے ادوار میں بھی اہم عہدوں پر تعینات رہے۔

بلوچستان:

فضل الرحمٰن بلوچستان ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہیں اور وہ بلوچستان صوبائی محتسب اور قانون کے سیکریٹری بھی رہے۔ انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے پہلے ’پی سی او‘ کے تحت حلف اٹھایا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بہت قریبی سمجھے جاتے ہیں۔

انہیں وفاقی شرعی عدالت کا جج بھی نامزد کیا گیا تھا لیکن انہوں نے الیکشن کمیشن کا رکن بننے کو ترجیح دی۔ وہ تبلیغ جماعت میں کافی سرگرم رہے ہیں۔ ان کی صاحبزادی اور صاحبزادہ بلوچستان میں ماتحت عدالتوں کے جج ہیں۔

سندھ:

محمد روشن عیسانی کے والدین کا تعلق ٹنڈو محمد خان سے ہے اور وہ میمن ہیں۔ انہوں نے میر پور خاص میں وکالت کی اور پیپلز پارٹی کی حکومت میں وہ سندھ ہائی کورٹ کے جج بنے۔ ان کے بعض قریبی ساتھی کہتے ہیں کہ وہ وکلا کی سیاسی سرگرمیوں سے بھی اجتناب برتتے رہے۔

خیبر پختونخوا:

شہزاد اکبر خان وکالت کے بعد پشاور ہائی کورٹ کے جج بنے۔ وہ وکلا کی سیاست میں خاصے سرگرم رہے اور ان کی ہمدردیاں پیپلز لائر فورم کے ساتھ رہیں۔ لیکن بطور جج انہیں وکلا اور سیاسی حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔