سندھ: ’400 پولیس اہلکار جرائم میں ملوث‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 8 فروری 2013 ,‭ 15:22 GMT 20:22 PST

جسٹس خواجہ ایس جواد کا کہنا تھا کہ جب تک پولیس اپنے محکمے میں اصلاحات نہیں لائی گئی دوسرے محکموں میں کیا کارروائی کرے گی

پاکستان کی سپریم کورٹ میں کراچی بدامنی مقدمے کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ کی ایم آئی ٹی برانچ کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق سندھ پولیس میں ایس پی سے لیکر چھوٹے رینک تک 400 پولیس اہلکار قتل سمیت مختلف جرائم میں ملوث ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی چار رکنی بینچ نے کراچی بدامنی کے مقدمے کی جمعہ کو سماعت کی اور عبوری حکم نامہ بھی جاری کیا۔

سپریم کورٹ کی چار رکنی بینچ کے سربراہ خواجہ ایس جواد نے آئی جی سے سوال اٹھایا تھا کہ ان ملزم پولیس اہلکاروں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے اور ان کی پوسٹنگ کہاں ہے۔

آئی جی فیاض لغاری نے جواب دیا تھا کہ پولیس میں ایک لاکھ اہلکار ہیں وہ یہ نہیں بتا سکتے کہ ان کی کہاں کہاں پوسٹنگ ہے۔

جسٹس خواجہ ایس جواد کا کہنا تھا کہ جب تک پولیس اپنے محکمے میں اصلاحات نہیں لاتی تو وہ دوسرے محکموں میں کیا کارروائی کرے گی۔

جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ لوگوں کا پولیس سے اعتماد اٹھ گیا ہے، اس لیے کوئی فریادی یا گواہ بننے کے لیے تیار نہیں ہے اور حکام پولیس کو غیر سیاسی کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انسپیکٹر جنرل آف سندھ پولیس فیاض لغاری نے جمعہ کو سپریم کورٹ میں معلومات پیش کی کہ کراچی میں چودہ لاکھ غیر قانونی تارکین وطن رہتے ہیں، جن میں سے ساڑہ بارہ لاکھ افغانی اور باقی بنگالی اور برمی ہیں۔

فیاض لغاری نے مزید بتایا کہ پولیس نے دہشت گردی کے 114 مقدمات دائر کیے ہیں، 56 ملزمان پولیس مقابلوں میں مارے گئے ہیں، اس کے علاوہ 128 ٹارگٹ کلرز گرفتار کیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق گرفتار ملزمان میں سے کچھ کا تعلق تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان لبریشن آرمی سے ہے اس لیے ہی پولیس پر حملے کیے جارہے ہیں اور چودہ ماہ میں 127 پولیس اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

دوسری طرف سماعت کے دوران جسٹس خواجہ ایس جواد کا کہنا تھا کہ حالات بتدریج خراب ہو رہے ہیں 2011 میں 1300 لوگ ہلاک ہوئے اور2012 میں یہ تعداد بڑھ کر 1800 ہوگئی اگر 1500 لوگ بھی ہلاک ہوتے تو وہ تسلیم کرتے کہ کچھ بہتری آ رہی ہے۔

انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے جو احکامات جاری کیے تھے ان میں سے کچھ کا تعلق وفاقی حکومت سے بھی تھا لیکن وفاقی حکومت نے تاحال ایک بھی رپورٹ جمع نہیں کرائی یہ عدم دلچسپی کی انتہا ہے۔ ’ہم قانون کے مطابق حکم جاری کریں گے، پھر نتائج بھگتنا پڑیں گے۔‘

اس کے بعد سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی مقدمے کی پانچ روز کی سماعت کے بعد عبوری حکم نامے میں حکومت کی طرف سے کراچی میں امن وامان کے حوالے سے عدالت میں رپورٹ پیش نہ کرنے کو حکومت کی عدم دلچسپی قرار دیا۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو ایک ایسی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی جس میں لوگوں کے جان اور مال کے تحفظ اور معاشی سرگرمیاں پر امن ماحول میں جاری رکھنے کے لیے سندھ کی حکومت کی طرف سے لیے گئے اقدامات کی وضاحت کی گئی ہو۔

عدالت نے آئی جی سندھ پولیس سے ایم آئی ٹی برانچ کی روشنی میں چار سو ملزم پولیس اہلکاروں کی پوسٹنگ کی تفیصلات بھی طلب کی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔