’صدر زرداری کے خلاف مقدمات نہیں کھل سکتے‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 9 فروری 2013 ,‭ 17:51 GMT 22:51 PST

نواز شریف کی حکومت نے سوئس کمپنیوں سے بارہ ملین ڈالر کمیشن لینے کے الزام میں آصف علی زرداری پر مقدمات قائم کیے تھے

سوئس حکام نے حکومتِ پاکستان کو مطلع کیا ہے کہ صدر آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ نہیں کھولے جا سکتے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ اطلاع پاکستان کی وزارتِ قانون کو موصول ہونے والے ایک خط میں دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے سوئس حکام کی جانب سے بھجوائے گئے خط کی تصدیق کی ہے جبکہ وزیرِ اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ سوئس حکومت کے فیصلے نے حکومتِ پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارت قانون کو ملنے والے خط میں سوئس حکام نے کہا ہے کہ آصف علی زرداری کو بطور صدر عالمی طور پر استثنیٰ حاصل ہے اس لیے جب تک وہ اس عہدے پر فائز ہیں ان کے خلاف کسی بھی قسم کے مقدمات پر کارروائی شروع نہیں ہو سکتی۔

واضح رہے کہ این آر او عملدرآمد کیس میں سپریم کورٹ نے صدر آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ کرپشن کے مقدمات دوبارہ کھلوانے کے لیے سوئس حکام کو خط تحریر کرنے کا حکم دیا تھا۔

اسی عدالتی حکم کی عدم تعمیل پر سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوئی تھی اور انہیں گزشتہ برس انیس جون کو پانچ سال کے لیے انتخابات میں شرکت اور کوئی عوامی عہدہ سنبھالنے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔

ان کی جگہ ملک کے وزیراعظم بننے والے راجہ پرویز اشرف کو بھی سپریم کورٹ نے ابتدائی طور پر خط نہ لکھنے پر توہینِ عدالت کے مقدمے میں اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔

تاہم حکومت اور عدلیہ کے طویل قانونی تنازع کے بعد سوئٹزرلینڈ کے حکام کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے گزشتہ برس نومبر میں خط بھیج دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ انیس سو نوے کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی میاں نواز شریف کی حکومت نے کسٹم انسپیکشن کے ٹھیکوں میں سوئس کمپنیوں سے بارہ ملین ڈالر کمیشن لینے کے الزام میں بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور دیگر پر مقدمات قائم کیے تھے۔

اُس وقت کی حکومت نے بعد میں سوئس حکام سے خط و کتابت کی اور سوئٹزرلینڈ میں مقدمات قائم ہوئے لیکن سنہ دو ہزار سات میں جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو میں سمجھوتے کے نتیجے میں قومی مصالحت آرڈیننس ’این آر او‘ جاری ہوا اور وہ مقدمات واپس لیے گئے تھے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔