’کینیڈا کا شہری کس طرح الیکشن کمیشن کو چیلنج کرسکتا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  پير 11 فروری 2013 ,‭ 11:11 GMT 16:11 PST

عدالت نے طاہر القادری کو کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنے کا حکم دیا

سپریم کورٹ نے تحریک منہاج القران کے سربراہ طاہر القادری سے کہا ہے کہ وہ اس بات پر عدالت کو مطمئین کریں کہ اُنہوں نے جب کینیڈا کی شہریت کا حلف اُٹھا لیا ہے تو وہ کس طرح پاکستان کی آئینی ادارے یعنی الیکشن کمیشن کی تشکیل کو چیلنج کرسکتے ہیں۔

عدالت نے اُن سے ایسا نوٹیفکیشن بھی پیش کرنے کا حکم دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی پاکستانی جس نے دوسرے ملک کی شہریت حاصل کی ہو کس طرح پاکستان کے سب سے بڑے ادارے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کرسکتا ہے۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی تشکیل کے خلاف دائر درخواست کی ابتدائی سماعت کی۔

اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا قانون دوہری شہریت کے حامل پاکستانی کو آئینی درخواست دائر کرنے سے نہیں روکتا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر عدالت چاہے تو اس ضمن میں بنائے گئے قوانین کا عدالتی جائزہ لے سکتی ہے۔

طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے ایک ووٹر کی حثیت سے الیکشن کمیشن کی تشکیل کو چیلنج کیا ہے جبکہ دوہری شہریت کا معاملہ عام انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کرتا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سنہ دوہزار پانچ میں قومی اسمبلی کی رکنیت سے مستفی ہونے کے بعد اُنہوں نے اپنے اہلخانہ کے ہمراہ کینیڈا کی شہریت حاصل کی تھی۔ اُنہوں نے کہا کہ کینیڈا کی شہریت بطور مذہبی سکالر حاصل کی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جب اُنہوں نے کینیڈا کی شہریت حاصل کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’وہ ملکہ اور اُن کے جانیشنوں کا وفادار رہوں گا اور اگر کوئی دوسرا ملک اُن کے ملک پر حملہ کرے تو اس کے لیے وہ ہتھیار بھی اُٹھاسکتے ہیں‘، تو پھر ایسے شخص کو پاکستان کے الیکشن کمیشن پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔

عدالت نے طاہرالقادری کو اس ضمن میں منگل کے روز تک تفصیلی جواب جمع کروانے کا بھی حکم دیا۔ اس کے علاوہ عدالت نے اُنہیں کینیڈا کی شہریت حاصل کرنے کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کرنے کا حکم دیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔