ووٹر فہرستوں کی تصدیق میں مزید توسیع

آخری وقت اشاعت:  پير 11 فروری 2013 ,‭ 14:51 GMT 19:51 PST

’یہ عمل ہم نے گھر گھر جا کر کیا ہے اور جو کام رہ گیا ہے وہ آنے والے دنوں میں مکمل کرلیں گے‘

پاکستان کے صوبہ سندھ کے الیکشن کمشنر محبوب انور کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں کے تصدیقی عمل میں ایک سے دو دن کی توسیع کی جا رہی ہے جبکہ ووٹروں کی فہرستوں کا ڈیٹا نادرا کو بھیجا جائے گا جس کے بعد ہی حتمی فہرستیں جاری کی جائیں گی۔

واضح رہے کہ کراچی میں ووٹرز کی فہرستوں کا تصدیقی عمل گزشتہ ماہ کی پندرہ تاریخ کو شروع کیا گیا تھا جس میں دس روز کی توسیع کی گئی تھی۔ کراچی میں تصدیقی عمل پندرہ جنوری کو شروع ہوا تھا، وقت مقررہ کے تحت آج ختم ہونا تھا۔

صوبۂ سندھ کے الیکشن کمشنر محبوب انور کا کہنا ہے کہ تصدیقی عمل مکمل ہونے میں ابھی ایک سے دو دن اور لگ سکتے ہیں۔

’یہ عمل ہم نے گھرگھر جا کر کیا ہے اور جو کام رہ گیا ہے وہ آنے والے دنوں میں مکمل کرلیں گے۔‘

صوبائی الیکشن کمشنر محبوب انور کا کہنا ہے کہ پچانوے فیصد تصدیقی عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد یہ فہرستیں صوبائی مرکز پر آئیں گی، پانچ دن کے دوران انہیں ترتیب دیا جائے گا پھر اسے نادرا ڈیٹا بیس بھیجا جائے گا اور اس کے بعد حتمی فہرستیں جاری کی جائیں گی۔

ایک جانب کراچی میں ووٹرز کی فہرستوں کا تصدیقی عمل اپنے اختتام کو پہنچ رہا ہے تو دوسری جانب حزب اختلاف کی جماعتوں کے تحفظات اور خدشات دور نہیں ہوسکے ہیں ۔

ایم اے جناح روڈ پر ایک ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنماء محمد حسین محنتی نے الزام لگایا کہ گزشتہ پچیس سال سے ووٹرز کی فہرستیں درست نہیں بنائی گئی تھیں۔

ریلی کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنماء سلیم ضیاء نے کہا کہ الیکشن کسی بھی بہانے سے ملتوی نہیں کیے جاسکتے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات ملتوی کرنے والوں کو ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ ہم الیکشن ملتوی نہیں ہونے دیں گے، یہ وقت پر ہوں گے اور ان میں دھاندلی کی بھی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سندھ قوم پرست جماعت سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے رہنماء شاہ محمد شاہ بھی موجودہ ووٹرز فہرستوں اور حلقہ بندیوں سے مطمئن نظر نہیں آ رہے تھے۔ انہوں نے شرکاء سے خطاب کے دوران کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے الیکشن کمیشن بھی کسی ’قومی مفاہمت‘ کا شکار ہوگیا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے کراچی بدامنی کیس میں شہر میں حلقہ بندیوں میں رد و بدل اور ووٹرز فہرستوں کی تصدیق کا حکم جاری کیا تھا، الیکشن کمیشن نے حلقہ بندیوں میں رد و بدل کو ناممکن قرار دیا تھا۔

تاہم فوج کی نگرانی میں ووٹرز فہرستوں کی جانچ پڑتال کی یقین دہانی کرائی لیکن اپوزیشن جماعتوں کا اعتماد بحال نہیں ہوسکا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔