پاک، افغان علماء کانفرنس کا انعقاد دس مارچ کو

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 فروری 2013 ,‭ 20:18 GMT 01:18 PST

علماء کانفرنس میں افغان طالبان کو بھی شرکت کی دعوت دی جائےگی

پاکستان اور افغان علماء نے خطے میں قیام امن کے لیے دس مارچ کو کابل میں علماء کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے جس میں دونوں ممالک کے پانچ سو علماء اور مذہبی سکالر شرکت کریں گے۔جبکہ اس کانفرنس میں افغان طالبان کو بھی شرکت کی دعوت دی جائےگی۔

اس بات کا فیصلہ پاک، افغان علماء کونسل کے رہنماؤں نے پیر کو اسلام آباد میں ہونے والے ایک اجلاس میں کیا۔

اجلاس میں افغان علماء وفد کی قیادت قیام الدین کشاف جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی علامہ طاہر اشرفی نے کی۔

اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دونوں ممالک کے علماء نے بتایا کہ پاک افغان علماء کانفرنس دس مارچ کو کابل میں منعقد کی جائےگی جس میں دونوں ممالک کے ڈھائی سو علماء شرکت کریں گے جبکہ اس میں افغان طالبان کو بھی شرکت کی دعوت دی جائےگی۔

پاکستانی طالبان کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دینے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پاکستان علماء کونس کے صدر علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ افغانستان میں طالبان امریکہ کےخلاف جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ پاکستانی طالبان یہاں بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہےجس کی وجہ سے پاکستانی طالبان کوشرکت کی دعوت نہیں دی جا رہی ہے۔

پریس کانفرنس میں جب صحافیوں نے افغان علماء وفد سے سوالات شروع کیے تو وہ کوئی جواب دیے بغیر اٹھ کر وہاں سے چلے گئے تاہم بعد میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے افغان علماء وفد کے سربراہ عطاءاللہ لودین نے کہا کہ کانفرنس سے قبل اکیس فروری کو پاکستان سے علماء کا ایک وفد کابل کا دورہ کر کے کانفرنس کے انعقاد کا جائزہ لے گا۔

انہوں نے بتایا کہ کانفرنس میں امتِ مسلمہ پر زور دیا جائےگا کہ خطے میں امن کے لیے ہونے والی کوششوں کی حمایت کریں تاکہ دونوں ممالک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکے۔

ایک سوال کے جواب میں علامہ طاہر اشرفی نے کہا کہ آج کے اجلاس میں بعض اور فیصلے بھی ہوئے تھے جس کا پریس کانفرنس میں ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ انہوں نے کسی کو براہ راست مخاطب کیے بغیر کہا کہ اگراجلاس کے فیصلوں کی پابندی نہیں کی گئی تو پاکستانی وفد کی کابل کانفرنس میں شرکت مشکل ہو جائےگی۔

یاد رہے کہ ایک ماہ قبل افغان طالبان نے ایک بیان کے ذریعے دونوں ممالک کے علماء سے کہا کہ وہ اس طرح کی کانفرنس میں شرکت نہ کریں جس کی سرپرستی افغان حکومت کر رہی ہو تاہم کانفرنس میں موجود افغان علماء نے کہا ہے کہ یہ کانفرنس غیر سرکاری طور پر بلائی جا رہی ہے اور اس کے لیے کسی بھی حکومت سے مالی تعاون نہیں لیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔