’طاہرالقادری کیس کا فیصلہ جلد کرنا چاہیے‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 12 فروری 2013 ,‭ 11:27 GMT 16:27 PST

انتخابات وقت پر ہو سکتے ہیں کیونکہ پہلی بار زیادہ تر سیاسی جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ انتخابات وقت پر ہوں: عاصمہ جہانگیر

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر کا کہنا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کو الیکشن کمیشن کی تشکیل پر ڈاکٹر طاہر القادری کی درخواست پر جلد فیصلہ سنانا چاہیے تاکہ غیر یقینی کی کیفیت کو ختم کیا جا سکے۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ الیکشن سے پہلے اگر کوئی غیر یقینی کی کیفیت پیدا ہو جائے تو ان قوتوں کو تقویت ملتی ہے جو انتخابات کو ملتوی اور نظام کو پٹری سے اتارنا چاہتی ہیں۔

سپریم کورٹ بار کی سابق صدر نے کہا کہ اگر اس درخواست پر سپریم کورٹ کا فیصلہ اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد آتا ہے تو الیکشن کمیشن کا تعین کرنا ہی ناممکن ہو جائے گا۔

عاصمہ جہانگیر کے خیال میں انتخابات وقت پر ہو سکتے ہیں کیونکہ پہلی بار زیادہ تر سیاسی جماعتیں یہ چاہتی ہیں کہ انتخابات وقت پر ہوں، لیکن اس کا انحصار اس بات پر بھی ہو گا کہ یہ سیاسی جماعتیں کس حد تک ان قوتوں کا مقابلہ کر سکتی ہیں جو اس نظام کو مضبوط ہوتا نہیں دیکھ سکتیں۔ اس کے علاوہ سیاسی حلقوں میں بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کی زبان بولتے ہیں، وہ کئی پتے کھیلنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انتخابات بغیر کسی خون خرابے کے وقت پر ہو گئے تو یہ ہماری قوم کی بہت بڑی خوش قسمتی ہو گی۔

عاصمہ جہانگیر کے بقول طاہر القادری کی درخواست کا یہ وقت درست نہیں بلکہ اس کا ایک سیاسی پہلو ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کا تقرر تو عین آئین کے مطابق ہے جبکہ الیکشن کمیشن کے چاروں صوبائی اراکین کا تقرر تو بہت پہلے ہو چکا ہے اس وقت انہیں کیوں یہ خیال نہیں آیا کہ یہ تقرریاں درست نہیں۔ اس لیے طاہر القادری کی اس درخواست کی بابت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دیر آید درست آید بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیر سے آئے تو کیوں آئے۔

"طاہر القادری کی اس درخواست کی بابت یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دیر آید درست آید بلکہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیر سے آئے تو کیوں آئے؟"

عاصمہ جہانگیر

عاصمہ جہانگیر نے طاہر القادری کی درخواست کے بارے میں کہا کہ عدالتوں کو مفاد عامہ کے مقدمات سننے سے پہلے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے کہ کہیں درخواست گزار کا اپنا کوئی مفاد تو پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے ہمسایہ ملک بھارت کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں پر اس بات پر بڑی کڑی نظر رکھی جاتی ہے کہ جو درخواست گزار آئے اس کا اپنا کوئی سیاسی یا کوئی اور مفاد نہ ہو بلکہ درخواست کا ایک وقت بھی ہونا چاہیے۔ البتہ ہمارے ہاں کافی عرصے سے اب ایسی چیزوں کا خیال نہیں رکھا جا رہا اور یہی وجہ ہے کہ چونکہ ہمارے ہاں ایسی بہت سی درخواستوں کو سنا جا رہا ہے اس لیے طاہر القادری کی درخواست رد کرنا ان کے لیےمشکل ہو گیا ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ طاہر القادری انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کر چکے ہیں تو ایسی صورت میں اس درخواست دائر کرتے ہوئے ان کی اپنی پوزیشن کیا ہے؟ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ طاہر القادری انتخابات نہیں لڑ سکتے کیونکہ وہ آئین کی انہی شقوں پر خود پورے نہیں اترتے جن پر وہ سختی سے عمل کروانے کی بات کرتے ہیں اس میں دہری شخصیت رکھنے والا شخص تو الیکشن لڑ ہی نہیں سکتا۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ اگر طاہر القادری نے ووٹر ہونے کے ناطے یہ درخواست دی ہے تو اس کا بھی وقت ہوتا ہے کیونکہ اب جبکہ الیکشن اتنے قریب ہیں تو ان اراکین پر جن کی تقرری بہت پہلے کی گئی تھی اعتراض کرنے سے لگتا ہے کہ وہ انتخابات کو ملتوی کرانا چاہتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔