’چھ برس میں ہزار سے زیادہ قبائلی عمائدین ہلاک‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 فروری 2013 ,‭ 18:16 GMT 23:16 PST

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گذشتہ چھ سالوں کے دوران کم سے کم ایک ہزار سے زیادہ قبائلی عمائدین اور قومی مشران (رہنما) ہدف بنا کرمارے گئے ہیں جب کہ سینکڑوں اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

چھ سال میں ہزار سے زیادہ

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں گذشتہ چھ سالوں کے دوران کم سے کم ایک ہزار سے زیادہ قبائلی عمائدین اور قومی مشران (رہنما) ہدف بنا کرمارے گئے ہیں جب کہ سینکڑوں اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

فاٹا سکریٹیریٹ میں ایک اعلیٰ اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ 2006 سے 2012 تک سات قبائلی ایجنسیوں اور نیم قبائلی علاقوں میں شدت پسندی کے مختلف واقعات میں ایک ہزار سے زیادہ قبائلی عمائدین اور قومی مشران کو ہدف بنا کر ہلاک کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دوران سینکڑوں قبائلی عمائدین زخمی ہوئے ہیں جن میں کچھ شدید زخمی تھے اور کچھ معمولی زخمی شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سات قبائلی ایجنسیوں میں 42647 قبائلی ملکان موجود ہیں۔ جن میں بعض کو قبائلی عمائدین یا ملکانان اور بعض لنگی مشر یا قومی مشران کے نام سے جانے جاتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ باجوڑ ایجنسی میں7396، مہمند ایجنسی میں 8289۔ خیبر ایجنسی میں 3681، کُرم ایجنسی میں 1112، اورکزئی ایجنسی میں 7613، شمالی وزیرستان میں 1576، جنوبی وزیرستان میں 1380 جبکہ نیم قبائلی علاقوں میں 2100 ملکان اور لنگی مشران موجود ہیں۔

کلِک کس ایجنسی میں کون سے نمایاں ملکان ہلاک کیے گئے: کلک کریں

اہلکار کا کہنا تھا کہ گذشتہ چھ سالوں کے دوران تمام قبائلی علاقوں میں 1035 قبائلی ملکان اور قومی مشران کو ہدف بنا کر ہلاک کیے گئے ہیں۔ اہلکار کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں باجوڑ ایجنسی میں ہوئی ہیں۔

اہلکار کا کہنا تھا کہ فاٹا سکریٹیریٹ کی جانب سے ہلاک ہونے والوں کو تین لاکھ اور زخمیوں کو ایک لاکھ پچاس ہزار پاکستانی روپے معاوضہ ادا کردیا گیا ہے۔

ابراھیم خان کوکی خیل آفریدی کو دو سال پہلے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں ہدف بناکر ہلا ک کیاگیا۔ ابراھیم خان کی ہلاکت کے بعد اب ان کے خاندان میں اور ابراھیم خان کے چچازاد بھائی ملک اکرام اللہ جان ایک سرکردہ ملک کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔

اہلکار نے واضح کیا کہ ہلاک ہونے والوں کی یہ تعداد مقامی انتظامیہ کی طرف سے رپورٹ کی گئی ہیں جن کو فاٹا سکریٹیریٹ نے معاوضہ بھی ادا کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے عام شہری اور ایک قبائلی سردار کے ہلاکت پر لواحقین کو معاوضہ برابر ہی دیا جاتا ہے۔ البتہ خاصہ دار فورس اور لیویز کے اہلکاروں کو پہلے تین لاکھ دیے جاتے تھے اور بعد میں آٹھ لاکھ، جب کہ اب یہ رقم بڑھا کر 30 لاکھ کر دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کی وجہ سے سینکڑوں قبائلی عمائدین نے اپنے علاقے چھوڑ دیے ہیں اور وہ پاکستان کے دوسرے علاقوں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں قبائلی جرگے بھی بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

ابراھیم خان کوکی خیل آفریدی کو دو سال پہلے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں ہدف بناکر ہلا ک کیاگیا۔ ابراھیم خان کی ہلاکت کے بعد اب ان کے خاندان میں اور ابراھیم خان کے چچازاد بھائی ملک اکرام اللہ جان ایک سرکردہ ملک کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں۔

ملک اکرام اللہ جان نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام قبائلی علاقوں میں ملکان کی ہلاکتوں سے انتظامیہ اور قبائل کے درمیان دوری پیدا ہوگئی ہے۔ اس دوری کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قبائلی عمائدین کا کردار حکومت اور عوام کے درمیان ایک پُل کے مانند تھا اور قبائلی سرداروں کی ہلاکت کے بعد جرگے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں اور اس وقت قبائلی جرگے برائے نام رہ گئے ہیں۔

اسسٹنٹ پولیٹکل ایجنٹ جمردو جہانگیر اعظم نے بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ قبائلی عمائدین کو چُن چُن کر ہلاک کیاگیا ہے۔ لیکن اس کے باجود بھی قبائلی نظام کا انحصار جرگوں پر ہے اور وہ ایجنسی کے اندر تمام معاملات اور تنازعات کو جرگوں کے ذریعے حل کراتے ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ حالت خراب ہونے سے پہلے قبائلی عمائدین کے ذریعے ان کے تمام تنازعات مقامی سطح پر حل ہوتے تھے لیکن قبائلی عمائدین کے کمزور ہونے سے لوگوں کے درمیان تنازعات حل کرانے میں انتہائی مُشکلات کا سامنا ہے۔

’جرگہ سسٹم ختم ہو گیا‘

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں قبائلی عمائدین پر جان لیوا حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں سے جرگے کے نظام کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور شدت پسندی کے خلاف چار سال سے جاری جنگ میں زیادہ تر قبائلی عمائدین جن میں ملک اور مشران شامل ہیں ہلاک ہو گئے ہیں۔

باجوڑ ایجنسی کے علاقے لغڑی میں تین ملکوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے گذشتہ چند برسوں میں ان کے بزرگوں اور رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ملک کے دفاع کی خاطر قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔

ملک سلطان زیب نے بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے حملوں میں ان کے والد، بھائی ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے چچا پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

ملک سلطان زیب نے بتایا کہ ان پر بھی تین مختلف حملے ہوئے ہیں جن میں وہ بال بال بچے تاہم ان کے زیر استعمال تین گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان ساری قربانیوں کے باوجود وہ ملک کے دفاع کے لیے مزید قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔

ملک ایاز نے قبائلی عمائدین کے نشانہ وار قتل اور ان کے بعد قبائلی معاشرے پر پڑنے والے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جو مشر ہلاک ہو جاتا ہے اور دوسرا جو اس کی جگہ مشر بنتا ہے، عوام اس کے پیچھے اس طری نہیں چلتے جس طرح وہ پرانے مشر کی بات مانتے تھے۔

’حملہ حکومت کے ساتھ دینے پر کیا‘

باجوڑ کے ملک تاج ترخو کہتے ہیں کہ طالبان نے مبینہ طور پر ان کو اس لیے نشانہ بنایا کہ وہ حکومت کے ساتھ تھے اور حکومت کے اقدامات کی حمایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خود ان کو دو بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ طالبان کی شدت پسندی کا مقابلہ کسی اور نے اس طرح نہیں کیا جس طرح قبائلی علاقوں کے ملکوں نے کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں نئے مشر کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں تاہم وہ پوری کو شش کرتے ہیں کہ پرانے مشر کی کمی کو نیا مشر کسی بھی طرح پورا کر سکے۔

ایک سوال کے جواب میں باجوڑ کے ملک تاج ترخو کہتے ہیں کہ طالبان نے مبینہ طور پر ان کو اس لیے نشانہ بنایا کہ وہ حکومت کے ساتھ تھے اور حکومت کے اقدامات کی حمایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خود ان کو دو بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ طالبان کی شدت پسندی کا مقابلہ کسی اور نے اس طرح نہیں کیا جس طرح قبائلی علاقوں کے ملکوں نے کیا ہے۔

طالبان سے ان کی کیا دشمنی ہے؟ اس سوال کے جواب میں ملک تاج ترخو کا کہنا تھا کہ وہ طالبان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے تھے اس لیے ان کو اور ان کے عمائدین کو زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے آئندہ بھی عسکریت پسندی کی راہ میں اپنا کردار ادا کرتے رہنے کا اعادہ کیا ہے۔

’طالبان نے بھی بندوق اٹھائی ہے اور ہم نے بھی بندوق اٹھائی ہے۔ ہم حالت جنگ میں ہیں اور اس جنگ میں قبائلی جرگہ سسٹم ختم ہو گیا ہے۔ نہ تعلیم ہے نہ پانی نہ مناسب خوراک۔‘

ان مسائل کے حل کے بارے میں ملکوں کا کہنا ہے کہ ’جو اللہ کو منظور ہوگا وہی ہوگا‘ تاہم وہ طالبان سے رابطہ یا مذاکرات نہیں کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کوئی جرگہ کرے یا طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے تاکہ ان کے مسائل حل ہو سکیں۔

’وہ بہت قیمتی لوگ تھے‘

خیبر ایجنسی میں آفریدی قبیلے کے ذیلی قبیلے کوکی خیل کے ملک اکرام اللہ جان کوکی خیل کا کہنا ہے کہ خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کی جانب سے ہدف بنا کر قبائلی عمائدین کے قتل کے واقعات سے جرگے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ملک اکرام اللہ جان کوکی خیل کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کی روایت کے مطابق جرگوں کا انعقاد اس طرز پر نہیں ہو پا رہا جس طرح شدت پسندی کے واقعات میں قبائلی عمائدین کی ہلاکتوں کے سے پہلے ہوتا تھا۔

’اب لوگ جرگوں میں اس طرح نہیں بیٹھتے جس طرح وہ پہلے بیٹھتے تھے، وہ ڈرتے ہیں۔ تحصیل کی سطح پر اب بھی جرگے ہو رہے ہیں لیکن ان میں کافی تبدیلی آئی ہے۔‘

"اب لوگ جرگوں میں اس طرح نہیں بیٹھتے جس طرح وہ پہلے بیٹھتے تھے، وہ ڈرتے ہیں۔ تحصیل کی سطح پر اب بھی جرگے ہو رہے ہیں لیکن ان میں کافی تبدیلی آئی ہے۔"

ملک اکرام اللہ جان کوکی خیل

قبائلی عمائدین کی ہلاکتوں کے بعد ان کے ورثا کو دیے جانے والےمعاوضے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ معاوضہ نہ ہونے کے برابر دیا جاتا ہے۔

ملک اکرام اللہ جان کوکی خیل نہ کہا، ’لاکھ، دو لاکھ یا چار لاکھ روپے دیے جاتے ہیں، کیا بنتا ہے اتنے میں؟ وہ بہت قیمتی لوگ تھے ان کی کوئی قیمت نہیں تھی۔‘

انہوں نے کہا کہ شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے قبائلی عمائدین خیبر ایجنسی کے قبیلوں کے بڑے رہنما اور عزت دار لوگ تھے اور ان کے ہلاک ہونے کے بعد ہونے والا نقصان پورا نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ مقامی افراد پڑھے لکھے نہیں ہوتے لہٰذا قبائلی عمائدین جرگے کے ذریعے ان کی آواز اور ان کے مسائل مقامی انتظامیہ تک پہنچاتے ہیں اور اس طرح وہ عوام کی خدمت کر رہے ہیں۔

’اپنی ذات میں ادارہ‘

قبائلی علاقوں کے لیے سابق وفاقی وزیر اور موجودہ گورنر خیبر پختونخوا انجینئر شوکت اللہ نے قبائلی عمائدین کے قتل کو بڑا قومی نقصان قرار دیا ہے۔

’یہ مشران اپنی ذات میں ادارہ ہوا کرتے تھے۔ یہ لوگ کئی سالوں کے تجربے کے بعد اس مقام تک پہنچتے تھے جہاں وہ اپنے تجربے اور دانش کی بنیاد پر روز مرہ مسائل حل کرنے کے ساتھ اہم سیاسی معاملات پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ ان مشران کے چن چن کر قتل کیے جانے کے بعد اب ہم اس پریشانی کا شکار ہیں کہ ہماری اگلی نسل اس خلا کو کیسے پر کرے گی۔‘

باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے انجینئر شوکت اللہ نے بی بی سی کے ساتھ یہ گفتگو گورنر کا عہدہ سنبھالنے سے قبل کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی حقیقیت ہے کہ سینکڑوں مشران کے قتل کے بعد بہت بڑی تعداد میں مشران اور ان کے رشتہ دار قبائلی علاقے چھوڑ کر اسلام آباد یا دیگر شہروں میں گمنامی کی زندگی گزارنے پر بھی مجبور ہوئے۔

انجینئر شوکت اللہ کا کہنا تھا کہ ان مشران کے قتل ہونے اور علاقے چھوڑ کر چلے جانے سے قبائلی علاقوں میں صدیوں سے قائم جرگے کا نظام متاثر تو ہوا لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے جس قدر ممکن ہوا ان مشران کی حفاظت کی کوشش کی۔

’لیکن ان میں بیشتر افراد کو ان کے اپنے علاقوں میں نہیں بلکہ شہروں یا ایسے مقامات پر نشانہ بنایا گیا جہاں پر انہیں معمول کی سکیورٹی دستیاب نہیں تھی۔‘

انجینئر شوکت اللہ نے کہا کہ ویسے بھی ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کراچی میں روکے نہیں جا سکے تو قبائلی علاقوں میں انہیں روکنا زیادہ مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشران کے خلاف اس مہم کا آغاز ان کے اپنے علاقے باجوڑ سے ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ مشران انہی کے علاقے میں قتل کیے گئے۔

’جن لوگوں نے سکیورٹی مانگی ان کی حفاظت کا بندوبست کیا گیا۔ بعض لوگوں نے خود سے ہی حفاظتی اقدامات کیے۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے غیر محتاط رویہ اختیا کیا وہ اس مہم کا نشانہ بنے۔‘

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔