’اس جنگ میں قبائلی جرگہ سسٹم ختم ہو گیا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 13 فروری 2013 ,‭ 18:19 GMT 23:19 PST

ہلاکتوں سے جرگے کے نظام کو شدید دھچکا پہنچا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں قبائلی عمائدین پر جان لیوا حملوں اور ان کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں سے جرگے کے نظام کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور شدت پسندی کے خلاف چار سال سے جاری جنگ میں زیادہ تر قبائلی عمائدین جن میں ملک اور مشران شامل ہیں ہلاک ہو گئے ہیں۔

باجوڑ ایجنسی کے علاقے لغڑی میں تین ملکوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ عسکریت پسندوں نے گذشتہ چند برسوں میں ان کے بزرگوں اور رہنماؤں کو نشانہ بنایا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ملک کے دفاع کی خاطر قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔

ملک سلطان زیب نے بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے حملوں میں ان کے والد، بھائی ہلاک ہو گئے جبکہ ان کے چچا پر خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

ملک سلطان زیب نے بتایا کہ ان پر بھی تین مختلف حملے ہوئے ہیں جن میں وہ بال بال بچے تاہم ان کے زیر استعمال تین گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان ساری قربانیوں کے باوجود وہ ملک کے دفاع کے لیے مزید قربانیاں دینے کے لیے تیار ہیں۔

ملک ایاز نے قبائلی عمائدین کے نشانہ وار قتل اور ان کے بعد قبائلی معاشرے پر پڑنے والے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جو مشر ہلاک ہو جاتا ہے اور دوسرا جو اس کی جگہ مشر بنتا ہے، عوام اس کے پیچھے اس طری نہیں چلتے جس طرح وہ پرانے مشر کی بات مانتے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں نئے مشر کے لیے بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں تاہم وہ پوری کو شش کرتے ہیں کہ پرانے مشر کی کمی کو نیا مشر کسی بھی طرح پورا کر سکے۔

"جو مشر ہلاک ہو جاتا ہے اور دوسرا جو اس کی جگہ مشر بنتا ہے، عوام اس کے پیچھے اس طری نہیں چلتے جس طرح وہ پرانے مشر کی بات مانتے تھے۔"

ملک ایاز

ایک سوال کے جواب میں باجوڑ کے ملک تاج ترخو کہتے ہیں کہ طالبان نے مبینہ طور پر ان کو اس لیے نشانہ بنایا کہ وہ حکومت کے ساتھ تھے اور حکومت کے اقدامات کی حمایت کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ خود ان کو دو بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ طالبان کی شدت پسندی کا مقابلہ کسی اور نے اس طرح نہیں کیا جس طرح قبائلی علاقوں کے ملکوں نے کیا ہے۔

طالبان سے ان کی کیا دشمنی ہے؟ اس سوال کے جواب میں ملک تاج ترخو کا کہنا تھا کہ وہ طالبان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے تھے اس لیے ان کو اور ان کے عمائدین کو زیادہ نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے آئندہ بھی عسکریت پسندی کی راہ میں اپنا کردار ادا کرتے رہنے کا اعادہ کیا ہے۔

’طالبان نے بھی بندوق اٹھائی ہے اور ہم نے بھی بندوق اٹھائی ہے۔ ہم حالت جنگ میں ہیں اور اس جنگ میں قبائلی جرگہ سسٹم ختم ہو گیا ہے۔ نہ تعلیم ہے نہ پانی نہ مناسب خوراک۔‘

ان مسائل کے حل کے بارے میں ملکوں کا کہنا ہے کہ ’جو اللہ کو منظور ہوگا وہی ہوگا‘ تاہم وہ طالبان سے رابطہ یا مذاکرات نہیں کریں گے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت کوئی جرگہ کرے یا طالبان کے ساتھ مذاکرات کرے تاکہ ان کے مسائل حل ہو سکیں۔

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔