’یہ مشران اپنی ذات میں ادارہ ہوا کرتے تھے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 14 فروری 2013 ,‭ 10:41 GMT 15:41 PST

مشران کے چن چن کر قتل کیے جانے کے بعد اب ہم اس پریشانی کا شکار ہیں کہ ہماری اگلی نسل اس خلا کو کیسے پر کرے گی؟

قبائلی علاقوں کے لیے سابق وفاقی وزیر اور موجودہ گورنر خیبر پختونخوا انجینئر شوکت اللہ نے قبائلی عمائدین کے قتل کو بڑا قومی نقصان قرار دیا ہے۔

’یہ مشران اپنی ذات میں ادارہ ہوا کرتے تھے۔ یہ لوگ کئی سالوں کے تجربے کے بعد اس مقام تک پہنچتے تھے جہاں وہ اپنے تجربے اور دانش کی بنیاد پر روز مرہ مسائل حل کرنے کے ساتھ اہم سیاسی معاملات پر بھی دسترس رکھتے تھے۔ ان مشران کے چن چن کر قتل کیے جانے کے بعد اب ہم اس پریشانی کا شکار ہیں کہ ہماری اگلی نسل اس خلا کو کیسے پر کرے گی۔‘

باجوڑ ایجنسی سے تعلق رکھنے والے انجینئر شوکت اللہ نے بی بی سی کے ساتھ یہ گفتگو گورنر کا عہدہ سنبھالنے سے قبل کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی حقیقیت ہے کہ سینکڑوں مشران کے قتل کے بعد بہت بڑی تعداد میں مشران اور ان کے رشتہ دار قبائلی علاقے چھوڑ کر اسلام آباد یا دیگر شہروں میں گمنامی کی زندگی گزارنے پر بھی مجبور ہوئے۔

انجینئر شوکت اللہ کا کہنا تھا کہ ان مشران کے قتل ہونے اور علاقے چھوڑ کر چلے جانے سے قبائلی علاقوں میں صدیوں سے قائم جرگے کا نظام متاثر تو ہوا لیکن مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت نے جس قدر ممکن ہوا ان مشران کی حفاظت کی کوشش کی۔

’لیکن ان میں بیشتر افراد کو ان کے اپنے علاقوں میں نہیں بلکہ شہروں یا ایسے مقامات پر نشانہ بنایا گیا جہاں پر انہیں معمول کی سکیورٹی دستیاب نہیں تھی۔‘

انجینئر شوکت اللہ نے کہا کہ ویسے بھی ہدف بنا کر قتل کرنے کے واقعات کراچی میں روکے نہیں جا سکے تو قبائلی علاقوں میں انہیں روکنا زیادہ مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ مشران کے خلاف اس مہم کا آغاز ان کے اپنے علاقے باجوڑ سے ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ مشران انہی کے علاقے میں قتل کیے گئے۔

’جن لوگوں نے سکیورٹی مانگی ان کی حفاظت کا بندوبست کیا گیا۔ بعض لوگوں نے خود سے ہی حفاظتی اقدامات کیے۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے غیر محتاط رویہ اختیا کیا وہ اس مہم کا نشانہ بنے۔‘

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔